فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ خلیجی ملک قطر نے جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیرنو میں مدد کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری بیت المقدس کی آزادی کے لیے وسائل جمع کرے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار اپنے دوسرے بیرون ملک دورے کے دوران قطر میں جمعہ کے روز جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل نے معاشی ناکہ بندیوں کے ذریعے شہر کا دیوالیہ نکالنے کی پوری کوشش کی ہے لیکن فلسطینیوں نے اپنے عزم کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کا جواب دیا ہے۔ بیت المقدس کو بچانے کے لیے عالم اسلام کو اپنی قوت مجتمع کرنا ہو گی۔ انہوں نےکہا امیرقطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیرنو میں مدد کا وعدہ کیا ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے اپنی جمعہ کی تقریرمیں امیرقطرکی سخاوت کا خاص طور پر ذکرکیا۔ انہوں نےکہا کہ امیرقطر نے غزہ کی پٹی کی تعمیرنو کے لیے پہلے بھی بڑھ چڑھ کر امداد دی ہےاور آج پھر انہوں نے اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیرسمیت دیگر کئی ترقیاتی منصوبوں پر تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے حکومت قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام قطر کی امداد پر شکرگذار ہیں۔ فلسطینیوں کو ترک حکومت کی ہمدردی، عوام کے تعاون اور الجزیرہ ٹی وی کی جانب سےمسئلہ فلسطین کی کوریج اور صہیونی جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے کی مساعی قابل ستائش ہیں۔ فلسطینی عوام ان سب کا ہمیشہ شکریہ ادا کرتے رہیں گے۔
فلسطینی وزیراعظم نے کہا کہ بیت المقدس سنگین نوعیت کےخطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔ اسرائیل نے شہر میں یہودیت کے فروغ اور اس کی توسیع کو اپنا ایک نعرہ قرار دے کر اس کی جنگی بنیادوں پر شناخت مسخ کرنے کی مہم جاری ہے۔ اس وقت حالات اس قدر خراب ہیں کہ بیت المقدس ہمیں ہاتھ سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ عالم اسلام کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المقدس کو بچانے اور اسے آزاد کرانے کے لیے تمام وسائل کو مجتمع کریں۔
وزیراعظم نےغزہ کی پٹی کے شہریوں کو بیرون جانے کی راہداری دینے پرمصری حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قاہرہ حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی کے گرد معاشی ناکہ بندی کو سخت کرنے کے لیے ماضی میں کی جانے والی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں۔

