عالمی القدس تنظیم نے زور دیا ہے کہ اپنی آزادی کی خاطر قربانیاں دینےپر تیار امت مسلمہ اپنے قبلہ اول کو یہودی ریشہ دوانیوں سے بچانے پر بھی قادر ہے۔
عرب ممالک میں آنے والے انقلابات کے تناظر میں اب مسجد اقصی پرحملوں کو روکنے کے لیے بھی اٹھ کھڑا ہونا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اکیس اگست 1969ء کو مسجد اقصی میں آتشزدگی کو 43 سال مکمل ہونے کے موقعپر خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی تنظیم کےڈائریکٹر یاسین حمود کا کہنا تھا مسجد اقصی کے صحنوں میں یہودی انتہاءپسندوں کے دھاوے مسجد پر مکمل قبضے کی تمہید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب مسجداقصی میں آتشزدگی کی صرف یاد منانا کافی نہیں بلکہ اس کی حفاظت کے لیےعملی اقدامات کا عہد کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج مسجد اقصی پر یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فورسز کے حملے تیز ہوچکے ہیں، اسرائیل کی جانب سے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترینمقام کو منہدم کرنے کی مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہودی آباد کار مسجد اقصی میں داخل ہوکر یہاں اپنی تلمودی عبادات کی ادائیگی کر رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی نگرانی میں مسجد اقصی کے نیچے کھدائیاں جاری ہیں۔ مسجد اقصی کے نیچے سرنگیں کھودنے کا مقصد مسجد اقصی کی بنیادیں ختم کرکے اسے فضا میں معلق چھوڑ دینا ہے تاکہ یہ مسجد خود بخود گر جائے۔
اس موقع پر انہوں نے خبردار کیا کہ حال ہی میں مسجد اقصی کو یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کی آری الڈاڈ کی تجویز انتہائی خطرناک ہے۔ اس سے قبل بھی اسرائیلی رکن پارلیمان زئیف الکین کی جانب سے مسجد اقصی کے صحنوں میں یہودیوں کے داخل ہونے کی اجازت کا بل بھی پارلیمان میں پیش کیا جا چکا ہے، اس مسودہ قانون کے مطابق مسجد اقصی کو بھی مسجد ابراھیمی کی طرح یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان زمانی اعتبار سے تقسیم کر دیا جائیگا۔ عالمی القدس فاؤنڈیشن کے سربراہ حمود نے خبردار کیا کہ اسرائیل مسجد اقصی کے چاروں اطراف یہودی عبادت گاہیں اور یہودی مراکز بناتا جا رہا ہے۔ اسی طرح سیاحت کے نام پر غیر ملکی یہودیوں کو مسجد اقصی اور القدس میں داخلے کی اجازت دی جارہی ہے۔ اسرائیل مسجد اقصی کے اطراف یہودی بستیوں کا حلقہ بنا کر مسجد کو یہودی مقام قرار دینے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔ بیروت میں ہیڈ کوارٹر رکھنے والی عالمی فاؤنڈیشن کے رہنما نے زور دیا کہ مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے ٹھوس موقف اپنایا جائے اور یہودی ریاست کے تکبر اور غرور کو خاک میں ملانے کے لیے صرف باتوں کے سوا عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں، انہوں نے کہا کہ مسجد اقصی میں یہودیوں کے پے در پے دھاوے کسی بھی طرح تینتالیس سال قبل مسجد اقصی میں آتشزدگی کے واقعے سے کم خطرناک نہیں ہے۔ یہ حملے آگ کے بغیر ہی مسجد کو جلانے کے اقدامات ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مسجد اقصی پر یہودی آباد کاروں کے حملوں، مسجد کو یہودیانے کے اقدامات، اس کے نیچے سرنگیں کھودنے اور اس کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کی قانون سازی خطرناک اقدامات پر عرب لیگ کے کمزور موقف کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا ئے گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
