مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل میں جو شدت پسند گروپ قبلہ اول کو شہید کر کے اس کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے سرگرم ہیں
وہ اب انتخابی میدان کے ذریعے پارلیمنٹ اور حکومت تک رسائی کے لیے کوشاں ہیں۔ پیش آئند صہیونی پارلیمانی انتخابات میں ہیکل سلیمانی کے پرچارک گروپ زیادہ موثر طریقے سے انتخابات میں حصہ لینے کا سوچ رہے ہیں تاکہ قبلہ اول کو شہید کرنے کی سازشوں کو زیادہ سے زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق قصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے حالیہ کچھ عرصے سے مسجد اقصیٰ میں آمد و رفت کے شرمناک مظاہر دیکھنے کو ملے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ قبل اول سنگین نوعیت کے خطرات سے دوچار ہوچکا ہے۔ یہودی کھلے عام اسرائیلی فوج اور اس کے سیکیورٹی اداروں کی نگرانی اور سرپرستی میں مسجد اقصٰی میں داخل ہوتے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق رسومات ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان انتہا پسند گروپوں نے ایک نئی مہم بھی شروع کی ہے جس کے ذریعے آئندہ انتخابات میں ان عناصر اور قوتوں کو کامیاب کرانا ہے جو قبلہ اول کو شہید کرنے اور اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے مذموم عزم کو زیادہ تند دہی کے ساتھ آگے بڑھانے کا کام کر سکتے ہوں۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند گروپ ایک جانب مسجد اقصیٰ میں اپنی مسلسل آمد و رفت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ساتھ ہی ساتھ حکومت اور پارلیمنٹ میں بھی اپنا اثرو نفوذ بڑھانے کی کوشش کریں گے تاکہ مسجد اقصیٰ کو یا مکمل طورپر صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے یا اسے غرب اردن کے شہرالخلیل میں مسجد ابراہیمی کی طرح مسلمانوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔
اس مہم کے تحت اسرائیلی پارلیمنٹ کےاراکین اور کئی وزراء کی حمایت اور انہیں ووٹ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہی میں وزیرتعلیم و سپورٹس لیمور لفنت اور رکن کنیسٹ جیلہ جملیل کی حمایت شامل ہے۔ ان دونوں صہیونی خواتین سیاست دانوں نے بھی اپنے اپنے طور پر مسجد اقصیٰ کے خلاف مہمات شروع کر رکھی ہیں اور دونوں نے حالیہ کچھ عرصے سے اخبارات میں مضامین بھی لکھنا شروع کیے ہیں۔ لیمور نے اپنے حالیہ ایک مضمون کا عنوان ’’مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی کا سنگ بنیاد‘‘ رکھا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
