عرب ممالک کے اراکین پارلیمان پرمشتمل ’’عرب پارلیمنٹ‘‘ نے مسجد اقصیٰ میں حالیہ دنوں میں انتہا پسند یہودیوں کی غیرمعمولی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے چیئرمین علی الدقیاسی کا کہنا ہے کی قبلہ اول کا تقدس تمام مسلمانوں کے لیے ریڈ لائن کا درجہ رکھتا ہے جسے کسی صورت میں پامال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق پارلیمنٹ کے قاہرہ میں اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے علی الدقیاسی نے کہا کہ نمازیوں پر انتہا پسند یہودیوں اور قابض فوج کا تشدد اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہے۔ یہودی انتہا پسند ایک منظم سازش اور سرکاری سرپرستی میں مسجد اقصیٰ کی حرمت پر حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس کی اسلامی شناخت مٹانے اور اسے عبرانیت اور یہودیت میں تبدیل کرنے کی سازشوں کی بھی شدید مذمت کی۔ علی الدقیاسی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ عرب علاقوں پر اسرائیلی تصرف کا کوئی جواز نہیں۔ صہیونی ریاست خود کو سنہ 1967 ء سے قبل والی پوزیشن پرلے جائے اور فلسطینیوں کی اراضی چھوڑ دے۔
عرب پارلیمان کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ بیت المقدس ماضی میں کیے گئے تمام عالمی معاہدوں میں مسلمانوں کا علاقہ قرار دیا گیا ہے اور اس پر حکمرانی کا حق صرف فلسطینی عوام کے پاس ہے۔ سنہ 1905 ء میں ہیگ معاہدے، 1949 ء میں جنیوا کنونشن اور اس کے بعد سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی جتنی قراردادیں منظور کی گئی ہیں۔ ان میں بیت المقدس کو فلسطینیوں کا علاقہ قراردیا گیا ہے۔
عرب پارلیمنٹ کے سربراہ نے اسلام تعاون تنظیم’’او آئی سی‘‘، عرب لیگ، اقوام متحدہ ، اس کی ذیلی تنظیموں یونیسکو اور آلیکسو سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کو یہودیوں اور صہیونیوں کے حملوں سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
