مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حال ہی میں بیت المقدس میں یورپی یونین کے سفارت خانوں کی جانب سےفلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی مظالم پرمبنی ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال [ 2014 ء] کے دوران اسرائیلی اقدامات کے باعث بیت المقدس میں غیرمعمولی کشیدگی جاری رہی۔ اسرائیل کی جانب سے غیرقانونی طورپر توسیع پسندی اور یہودی آباد کاری، فلسطینیوں پراجتماعی پابندیاں، اسرائیلی پولیس اور فوج کی سیکیورٹی میں انتہا پسند یہودیوں کے مسجد اقصیٰ پردھاوے، فلسطینیوں کے مکانات اور املاک کی جبری مسماری، 40 فی فصد بچوں سمیت 1300 فلسطینیوں کی بلا جواز گرفتاری اور مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی کھلی مخالفت کا سلسلہ اپنےعروج پر رہا۔ اسرائیل کے مذکورہ تمام اقدامات انسانی حقوق کی پامالیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کا اشارہ دیا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے بعد بیت المقدس میں اسرائیلی مظالم کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے۔
یورپی یونین کے سفارت خانوں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے یورپی امور کے فلسطینی تجزیہ نگار حسام شاکرنے کہا کہ ’’یورپی رپورٹ میں اسرائیل کے خلاف عالمی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کا اشارہ اہم پیش رفت ہے‘‘۔
فرانس میں ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نےفلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق رپورٹ جاری کرکے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ اسرائیلی ریاست پر یورپی ممالک کی طرف سے پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کے تمام شہروں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی ریاست کے ظالمانہ اقدامات پر یورپ میں بھی سخت تشویش پائی جار ہی ہے۔
حسام شاکر کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک کی حکومتوں میں اسرائیلی مظالم کے حوالے سے سوچ تیزی کے ساتھ بدل رہی ہے۔ یورپ کے ایوانوں میں اب اسرائیلی کی غیرقانونی سرگرمیوں پر صہیونی ریاست کے ٹرائل کے مطالبات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ بند کرے ورنہ ان کی حکومت کو یورپ میں سخت قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
شاکر کا کہنا تھا کہ یورپی حکومتوں کے طرز عمل اور سوچ میں تبدیلی میں اہم کرادر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ادا کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی یورپی ملکوں کی حکومتوں سے فلسطین میں اسرائیل کی منظم ریاستی دہشت گردی کے مرتکب صہیونیوں کے خلاف عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
