اقوام متحدہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکام کے ہاتھوں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی شدید مذمت کی ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہےکہ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری بلا جواز اور ناقابل برداشت اقدامات ہیں۔
اس طرح کی کارروائیوں سے خطے میں دیر پاامن کی کوششیں بری طرح متاثر ہوں گی۔
اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق”مائیکسل گیلارڈ” نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ فلسطینیوں کے گیارہ سو مکانات مسمار کیے۔ اس دوران صہیونی فوج نے ایک ہزار فلسطینیوں کو جبری طور پر شہر سے بے دخل کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی مقبوضہ عرب علاقوں میں غیریہودی شہریوں بالخصوص فلسطینیوں کے تحفظ اور انہیں شہری ضروریات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اسرائیل نے اپنے زیرقبضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے مکانات اور ان کی املاک کی تباہی کا سلسلہ جاری رکھ کرنہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں بلکہ امن کے قیام کی عالمی کوششوں کو بھی تباہ کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب کے جمع کردہ اعدادو شمار کے مطابق قابض صہیونی فوج نے گذشتہ برس فلسطینیوں کے622 مکانات جبرا مسمار کیے، جس کے نتیجے میں 1100 افراد کوگھروں کی چھت سے محروم کر دیا گیا۔مکان کی چھت سے محروم ہونے والوں کی اکثریت بچوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں فلسطینیوں کو مکانات خالی کرنے اورانہیں خود ہی گرانے کے نوٹسز جاری کیے گئے۔

