مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ترک صدر نے یہ بات فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے انقرہ میں ملاقات کے دوران کہی۔
ترک صدر نے کہا کہ اتوار کے روز فرانس کے دارالحکومت پیریس میں عالمی دہشت گردی کی مذمت کے لیے ملین مارچ میں شرکت کرنا ان لوگوں کا حق تھا جو مظلوم ہیں اور خود دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا اس کے ساتھ کیا لینا دینا جو خود فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام میں ملوث اور دنیا کی بدترین دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو آخر پیریس میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے اور دہشت گردی کے خلاف مذمتی ریلی میں کیوں شریک ہوا ہے۔ کیا اس کے دامن پر پچیس سو نہتے فلسطینیوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کرنے کاخون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ توقع تو یہ تھی دہشت گردی مخالف ملین مارچ میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس’ شرکت کرتی۔
ایک سوال کے جواب میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین نہ صرف مشرق وسطیٰ کے ممالک کا اہم ترین مسئلہ ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کے شعور اور وجدان کے لیے گہرا گھاو ہے۔ فلسطینی ریاست کا جلد سے جلد قیام ہی دنیا اور مشرق وسطیٰ میں امن کا ضامن ہوسکتا ہے۔ ترکی سنہ 1967 ءکی حدود میں خود مختار فلسطینی ریاست کےقیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ اگر اس بنیاد پر فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاسکتی ہے تو اس کا کوئی اور حل قابل قبول نہیں ہوگا۔
ترک صدر نے عالمی سلامتی کونسل کے کردار کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ سلامتی کونسل فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل اوراقوام متحدہ اسرائیل کی گاڑی میں سوار ہیں۔ اسرائیل نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کا ذریعہ ہے۔
دہشت گردی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور سب سے زیادہ مسلمان اس کے نتیجے میں متاثر ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو نفرت اور دہشت گردی کی بد ترین شکلوں کا سامنا ہے۔ مغرب میں اسلام فوبیا دہشت گردی کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ اگر دنیا دہشت گردی سے نجات چاہتی ہے تو اسلام سے خدا واسطے کی دشمنی اسے ختم کرنا ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
