تیونس کے صدرڈاکٹر منصف المرزوقی نے مظلوم فلسطینی عوام کے مسلمہ حقوق کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی سمیت فلسطینی قوم کے مطالبات کی جنگ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ان کاکہنا ہے کہ عالم اسلام فلسطینیوں کی پشت پناہی جتنا آج کے دور میں کر رہے ہیں ماضی میں کبھی نہیں کی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تیونسی صدرنے ان خیالات کا اظہار دارالحکومت میں حکومت ہی کی سرپرستی میں منعقدہ عالمی نصرف اسیران فلسطین کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں برپا ہونے والی انقلاب کی تحریک فلسطینیوںکے لیے ایک گراں بہا تحفہ ہے۔ ہم نے انقلاب کے ذریعے ان لوگوں سے نجات حاصل کی جنہوں نے مسئلہ فلسطین کی سودے بازی کی کوشش کی تھی۔ انقلاب کا سب سے پہلا سبق فلسطینی عوام کوملا ہے۔
اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں کے بارے میں بات کرتےہوئے صدر المرزوقی نے کہا کہ ہم اس کانفرنس کے ذریعے اسرائیل کو یہ پیغام بھیج رہے ہیں کہ لوگوں کو غلام بنانے اور ان کے حقوق غصب کرنے سے کبھی بھی امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی پیغام پوری دنیا کے نام بھیجا گیا اور کہا گیا ہے کہ اگر وہ مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا میں امن دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں فلسطینیوں کےخلاف جاری صہیونی مظالم کوبند کرنا ہوگا۔
صدر منصف المرزوقی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کو اپنے اولین ایجنڈے میں شامل کریں، کیونکہ مسئلہ فلسطین کا حل نہ ہونا ایک ایسی جنگ کی طرف لےجاسکتا ہے جو کسی بھی مقام پرختم نہیں ہوگی اور اس کے سنگین مضمرات پوری عالمی برادری پر مرتب ہوں گے۔
خیال رہے کہ تیونس کی میزبانی میں دو روزہ عالمی نصرت اسیران کانفرنس کل ہفتے کے روز شروع ہوئی تھی۔ کانفرنس سے عرب ممالک، اسلامی دنیا اور عالمی برادری سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں اہم شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
