تیونس کے نئے صدر منصف المرزوقی نے کہا ہے کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے حقوق کو تیونسی عوام کےحقوق کے مساوی سمجھتا ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ دنیا کے ہر فورم پر لڑا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں تیونسی حکومتوں کی جانب سے فلسطینیوں کے ساتھ نا انصافی کی جاتی رہی ہے تاہم وہ اس نا انصافی کا ازالہ کریں گے۔ان کا اشارہ سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی جانب تھا جنہوں نے فلسطینیوں کے بجائے اسرائیل سے دوستیاں بڑھا رکھی تھیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تیونسی صدر نے ان خیالات کا اظہار فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم ایک بین الاقوامی تنظیم”یورو۔ مڈل ایسٹ” کے ایک وفد کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے عالمی تنظیم کے علاقائی دفتر کے لیے تیونس کے انتخاب کوخوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت فلسطینیوں کے حقوق کے سرگرم تنظیموں کے ساتھ ہرممکن تعاون جاری رکھے گی۔
رپورٹ کے مطابق تیونس کے صدر المرزوقی نے کہا کہ ان کے ملک میں ایک سال قبل برپا ہونےوالے انقلاب کے بعد فلسطینیوں کے بارے میں پالیسی تبدیل ہو گئی ہے۔ اب نئی پالیسی کےتحت ان کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے روابط نہیں ہیں اور موجودہ حکومت اسرائیل کو ایک غاصب اور ظالم ملک تصور کرتی ہے۔ تیونسی حکومت اور عوام کی مکمل ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔
المرزوقی نے”یورو۔ مڈل ایسٹ” کی جانب سے اپنا علاقائی دفتر تیونس منتقل کرنے کےفیصلے پر کہا کہ یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے۔ اس فیصلے سے شمالی افریقہ میں پسماندہ قوموں کے حقوق کو بھی دنیا میں اٹھانے کا موقع ملے گا۔
اس موقع پر انسانی حقوق کی تنظیم کے وفد نے المرزوقی کی جانب سے تنظیم کے دفترکے قیام کے لیے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ تنظیم کے ارکان کا کہنا تھا کہ وہ انہیں صرف فلسطینیوں ہی نہیں بلکہ عالمی انسانی حقوق کا ایک "پیامبر”سمجھتے ہیں۔

