ارجنٹائن کی فٹ بال ٹیم کے معروف کھلاڑی ڈیئگو میراڈونا کو ان دنوں فلسطینیوں کی حمایت کی پاداش میں اسرائیلیوں کی جانب سے ایک نہایت شر انگیز مہم اور غلیظ گالیوں کا سامنا ہے۔
میراڈونا کو سب وشتم کا نشانہ بنانے میں اسرائیل کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا آستینیں چڑھا کر میدان میں اترا پڑا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر الگ سے میراڈونا کو طعن وتشنیع کا سامنا ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق میراڈونا کےخلاف اسرائیلیوں کی شرانگیز مہم پہلے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس تک محدود تھی لیکن اسرائیل کے ایک مؤقرعبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” نے اپنے آن لائن ایڈیشن میں اس کےخلاف اسی نوعیت کی ایک شرانگیز رپورٹ شائع کرکے میڈیا کے بڑے اداروں اور بڑی تعداد میں انتہا پسند یہودیوں کو انہیں گالیاں دینے کاموقع فراہم کردیا ہے۔
میراڈونا کو جہاں ایک جانب سخت نفرت، گالم گلوچ اورتضحیک جیسے ناپسندیدہ رویے کا سامنا ہے وہیں انہیں انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے خطرناک انجام سے دوچار کرنے جیسی دھمکیوں کا بھی سامنا ہے۔ اخبار یدیعوت احرونوت کی ویب سائیٹ پرشائع رپورٹ میں میراڈونا کےخلاف جو لب لہجہ اپنایا گیا ہے اسے یہودی انتہا پسندی اور فلسطین دشمنی کی بدترین مثال قراردیا جاسکتا ہے۔
اس رپورٹ میں ارجنٹائن کے کوچ کو فلسطینیوں کی حمایت کے الزام میں کُتا، شرابی، پاگل، احمق، ناپاک، احمق، بونا، فاشسٹ اور گندگی کا چلتا پھرتا نمونہ جیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ رپورٹ میں اس پرالزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ ممنوعہ منشیات کا رسیا ہے اور اس نے لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔
"یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک یہودی انتہا پسند لکھتا ہے کہ "میراڈونا ایک بڑا منافق ہے اوراس کے دو چہرے ہیں۔ ایک وہ چہرہ جو اس نے 1986ء میں اپنے دورہ اسرائیل کے موقع پر دکھایا اور دیوار براق کے سامنے کھڑے ہو کر وہ یہودیوں کے ساتھ مل کر رویا تھا۔ اس وقت اس نے اسرائیلیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور اس کے صلے میں وہ فٹ بال کا میچ جیت کر عالمی کپ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا جبکہ اس کا دوسرا چہرہ آج سامنے آیا ہے جب وہ کھلے الفاظ میں فلسطینیوں کی حمایت کررہا ہے”۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے دبئی آمد پر ارجنٹینی سپر اسٹار نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ فلسطینیوں اورمسئلہ فلسطین کا پُر زور حامی ہے۔ نیز یہ کہ کسی کا دباؤ اسے فلسطینیوں کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ فلسطینیوں سے ہمدردی کے ان جذبات کا اظہار اسے مہنگا پڑا اور آج وہ یہودیوں کی جانب سے سخت طعن وتشنیع کا سامنا کر رہا ہے۔

