• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطینیوں کو افیون کا عادی بنانے کی منظم صہیونی سازش!

پیر 07-09-2015
in فلسطین
0
plf make-adicted
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے مقبوضہ علاقوں بالخصوص مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث یہودی کئی مافیا معصوم فلسطینی نوجوانوں کو افیون کا عادی کرتے ہوئے ان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کوماؤف کرنے کی ایک گھناؤنی سازش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صہیونی انتہا پسند مافیا کے اس منظم حربے کے تیزی سے پھیلنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی حلقوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے میں نہ صرف پرائیویٹ یہودی گروپ ملوث ہیں بلکہ اسرائیل کے انٹیلی جنس ادارے بھی اس گھناؤنے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ فلسطینی اتھارٹی سب کچھ جانتے بوجھتے قوم کے خلاف جاری اس منظم سازش پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق پچھلے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں مغربی کنارے کے شہرطولکرم سے منشیات کی تیاری میں مصروف تین کا رخانے پکڑے گئے ہیں۔ ان تینوں کا رخانوں میں پکڑی گئی منشیات کی اقسام نشے کے اعتبارسے انتہائی سخت بتائی گئی ہیں۔ کا رخانوں میں منشیات کی تیاری میں ملوث سات سماج دشمن عناصرکو حراست میں لیا گیا ہے، جنہوں نے دوران تفیش مبینہہ طورپرصہیونی منشیات کے مافیا کے ساتھ اپنے تعلق کا اعتراف کیا ہے۔

فلسطینی سماجی رہ نما محمد شدید نے”مرکزاطلاعات فلسطین” کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ” منشیات کے کا رخانوں کا انکشاف فلسطینی سماج کے لیے ایک بڑا صدمہ ہیں۔ اس سےیہ اندازہ ہو رہا ہے کہ اسرائیل اور اس کے جرائم پیشہ گروپ ایک منظم سازش کے تحت فلسطینیوں کو افیون کا عادی بنا رہے ہیں”۔

انہوںنے مزید کہا کہ یہ درست ہے کہ فلسطینی معاشرے میں منشیات کے استعمال کے رحجان میں قدرے کمی آئی ہے، لیکن اسرائیل کی ان خطرناک سازشوں سے ایسے لگ رہا ہے کہ فلسطینی دشمن کی سماج دشمن کا رروائیوں کے ذریعے فلسطینی نوجوانوں میں منشیات ٹھونسی جا رہی ہیں۔

آئینی سقم منشیات کے فروغ کاموجب

فلسطینی قوم کو نشے کی مکروہ لت میں مبتلا کرنے کی صہیونی سازشوں کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بے نقاب کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے مگر صدمے اور دکھ کی بات یہ ہےکہ فلسطینی اتھارٹی سب کچھ کا علم ہونے کے باوجود اس مکروہ سازش کے خلاف کوئی موثر کارروائی سے گریزاں ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اداروں کی جانب سے حالیہ ایام میں الخلیل، طولکر اور جنین سمیت غرب اردن کے کئی شہروں میں بھاری مقدار میں نشہ آوربوٹیاں پکڑی گئیں۔ صہیونی موت کے تاجر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے معصوم فلسطینی عوام کو نشے کی لت ڈال رہے ہیں اورمعصوم شہریوں کو مہلک منشیات کا عادی کرکے ان کی نفسیات اور اخلاقی حس کو بھی تباہ کرنے کی گھنائونی سازش کررہے ہیں۔

مغربی کنارے میں انسداد منشیات کے حوالے سے جاری مہم کے ایک رکن جمیل المصری نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کے نامہ نگار کو بتایا کہ غرب اردن میں تیزی کے ساتھ منشیات کے پھیلائو کے متعدد اسباب ہیں۔ اس حوالے سے اردنی حکومت کا ایک سابقہ قانون جو آج تک نافذ العمل ہے بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس قانون میں کسی حد تک لوگوں کو منشیات کے حصول اور اس کے کاروبار کی اجازت حاصل ہے۔ یہ قانون اس وقت اسرائیلی فوج کے ہاں بھی مروج ہے۔ دوسرا اہم سبب غرب اردن کی تمام رہ داریوں پر فلسطینی حکام کی عمل داری کا نہ ہونا ہے۔

جمیل المصری نے بتایا کہ فلسطینی انسداد منشیات پولیس پچھلے کئی مہینوں سےموت کے سودا گروں کے تعاقب میں ہے اورانہیں قانون کے حوالے کرنے کی کوشش کررہی ہے مگر بعض آئینی اور قانونی سقم ایسے ہیں جن کی آڑ میں منشیات کے سودا گر ضمانت پر رہائی کے ساتھ ساتھ اپنی جانیں بچالیتے ہیں۔

انہوں نے استفسارکیا کہ فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے کئی بار منشیات کے سوداگروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں مگر ان پرعمل درآمد میں آخر کی رکاوٹ ہے۔ جب فلسطینی اتھارٹی یہ تسلیم کرتی ہے کہ سماج دشمن عناصر اور صہیونی دشمن ایک سازش کے تحت فلسطینی قوم کو افیون کا عادی بنا رہی ہے تو اس کے انسداد کے لیے آخر کڑے قوانین کیوں نہیں بنائے جا رہے ہیں۔

ایک مقامی فلسطینی وکیل اور ماہر قانون محمد کممجی نے بتایا کہ اردن کی حکومت کی جانب سے انسداد منشیات سے متعلق قانون کی دفعات 390,391,392 مجریہ 1960 ء میں انسداد منشیات کے حوالے سے جس شدت کی سزائوں کی ضرورت تھی ان کا کوئی تصور نہیں، محض ہلکی پھلکی سرزنش تک محدود سزائوں سے جرائم پیشہ عناصر کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور وہ قانونی چارہ جوئی سے بچ جاتے ہیں۔

منشیات کی ترویج میں یہودی ملوث

سیکیورٹی اداروں اور سول سوسائٹی کی رپورٹس کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ شہرون میں معصوم فلسطینی نوخیز نسل میں منشیات کے مکروہ دہندے کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردار یہودی آباد کا روں کا ہے۔ حال ہی میں فلسطینی اوراسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے چھاپوں کے دوران منشیات کے کا روبار میں ملوث جوعناصر پکڑے گئے ہیں، ان میں اکثریت یہودی آباد کا روں کی ہے۔ یہی یہودی اس مکروہ دہندے سے سب سے زیادہ مستفید بھی ہورہے ہیں۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس ادارے خود یہودی آباد کا روں کو نہ صرف منشیات کی اسمگلنگ، ان کی تیاری اور فلسطینیوں میں پھیلانے میں ملوث ہیںبلکہ وہ ان عناصر کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں جو فلسطینیوں کو افیون زدہ قوم بنانے کے گھناؤنے جرم کے مرتکب ہیں۔

ایک دوسرے سماجی رہ نما محمد الطویل نے بتایا کہ یہودی آباد کا ر نہایت جرات اور پوری دیدہ دلیری کے ساتھ فلسطینی علاقوں میں منشیات کے دھندے میںملوث ہیں۔ یہودیوں کی اس دیدہ دلیری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی پولیس اور سیکیورٹی ادارے ایسے سماج دشمن عناصرکو سیکیورٹی مہیا کرتے ہیں۔

فلسطینی پولیس برائے انسداد منشیات نے 07 دسمبر 2013 ء کو یہودی کا لونی”تفوح” کے یہودیوں کے ایک گروپ کو حراست میں لیا۔ یہ یہودی آباد کا ر نابلس کے قریب بیتا کے مقام پر فلسطینیوں میں منشیات کی فروخت کے لیے کا م کر رہے ہیں۔ یہودی آباد کا روں کی گرفتاری کے بعد اسرائیلی فوج اور پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئےانتہا پسندوں کو چھڑا لیا۔

فلسطینی پولیس برائے انسداد منشیات کے سربراہ کیپٹن شحادہ عامرنے میڈیا کو بتایا کہ”تفوح” یہودی کا لونی کے انتہا پسند کے اسرائیلی پولیس کے ساتھ بھی رابطے تھے اور یہ سب مل کر فلسطینی علاقوں میں منشیات کی ترویج کی سازش کر رہے تھے۔ مغربی کنارے کے شہرنابلس اور اریحا ان کے اہم ترین اہداف تھے۔

انہوںنے مزید کہا کہ فلسطینیوں میں منشیات کی ترویج مقامی سطح پر ہو رہی ہے مگر اس کا سرچشمہ اسرائیل ہے۔ اسرائیل سے منشیات مافیا نشہ آور مواد فلسطینیوں میں منتقل کرتے ہیں۔

فلسطینیوں میں پھیلائی جانے والی منشیات کی مختلف اقسام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کیپٹن شحادہ کا کہنا تھا کہ انتہا پسند یہودی آباد کا روں نے حشیش[بھنگ] اور "المرجوانا” کے 50 سے 100 شیکل جبکہ دیگر منشیات کی گولیوں کے چھوٹے چھوٹےپیکٹ بنا رکھےہوتے ہیں جن کی مالیت اسرائیلی کرنسی میں 70 سے 100 شیکل تک ہوتی ہے۔

منشیات کے دھندے میں 300 فی صد اضافہ

فلسطین میں انسداد منشیات کے لیے سرگرم "ہیومن فرینڈ آرگنائزیشن” کے چیئرمین ڈاکٹر ایاد عثمان نے مرکزا طلاعات فلسطین کو بتایا کہ پچھلےچند برسوں کے دوران غرب اردن میں منشیات کے استعمال میں لرزہ خیز اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سنہ 2014 ء میں اس سے پچھلے سال کی نسبت منشیات کے استعمال میں 300 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ غیرمعمولی اضافہ ہے اور یہ شرح قائم رہتی ہے تو فلسطین کا بچہ بچہ اس لت میں مبتلا ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر عثمان کا کہناتھا کہ سنہ 2015 ء میں اب تک مغربی کنارے میں چھاپوں کے دوران منشیات کی 30 اقسام ضبط کی گئی گئیں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سماج دشمن عناصر کس تیز کے ساتھ منشیات کو فلسطین میں فروغ دے رہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی ہونے والے افراد میں زیادہ تر کم عمربچے اور بچیاں ہیں اور موت کے سودا گر بچوں ہی کو اپنا شکار بنا رہے ہیں۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.