مصر کی سب سے بڑی اور معروف علمی درسگاہ جامعہ الازھر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا ہے کہ سرزمین فلسطین کی مکمل آزادی اسلامی مقدسات کے پنجہ یہود سے چھٹکارا پانے تک مسلح مزاحمت فلسطینیوں کا بنیادی حق ہے۔
یہ حق نہ صرف اسلام انہیں دیتا ہے بلکہ مسلمہ عالمی قوانین انہیں یہ حق دے رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ احمد الطیب نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ "جہاد اپنی تمام تر صورتوں میں قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کے لیے مختلف اوقات اور مقامات پر مختلف وسائل استعمال کیےجاتے رہیں گے۔ کہیں بیان اور تقریر کے ذریعے جہاد کیاجائے گا، کہیں پرعوامی احتجاجی تحریکوں کے ذریعے جہاد ہو گا اور کہیں پر قلم اور بندوق کے ذریعے جہاد جاری رکھا جائے گا۔ فلسطینیوں کو جہاد کی ان تمام شکلوں کو استعمال کرنے، اپنے وطن کو دشمن کے تسلط سے آزاد کرانے اور تمام مقدس مقامات کوآزادی دلانے کا حق حاصل ہے۔
فلسطین میں یہ جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک غاصب اور قابض ریاست کا جبر کے ذریعے قبضے میں لیا گیا ایک ایک چپہ آزاد نہیں ہوجاتا۔
جامعہ الازھرکے سربراہ الشیخ احمد الطیب نے کہا کہ فلسطینیوں کا باہمی اتحاد عالم اسلام کی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اس وقت پوری اسلامی دنیا کی نظریں فلسطینیوں کےباہمی اتحاد پر مرکوز ہیں۔ فلسطین کے تمام قومی دھاروں کو تمام اختلافات کو بالائےطاق رکھتے ہوئے صرف وطن اور قبلہ اول کی آزادی پر متحد ہوجانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد مجاہدین اور مجاہد قوم کی صفت ہے۔ دنیا کی کوئی فوج باہمی اتحاد اور یگانگت کے بغیر کوئی معرکہ سر نہیں کر سکتی۔
شیخ الازھر نےعالم اسلام اور عالم عرب سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہاں سرکاری سطح پر تعلیمی نصاب میں بیت المقدس کی تاریخی حیثیت اور فلسطین کے مسائل کو شامل کریں، کیونکہ اسرائیل بیت المقدس کی تاریخی، مذہبی، جغرافیائی اور ثقافتی تشخص کو مٹانے کے لیے تمام وسائل استعمال کر رہا ہے۔ عالم اسلام کو بھی تمام وسائل کو بروئے کار لانا ہو گا۔

