مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری امور کے انچارج غسان ڈگلس نے انکشاف کیا ہے کہ مغربی کنارے کے آباد کاروں نے مختلف دیہاتوں اور قصبوں میں فلسطینیوں پر حملے کرنے کے لیے ایک خصوصی مسلح گروپ تشکیل دے دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈگلس نے کہا کہ یہودی آباد کاروں کے اس نئے دہشت گروپ نے بظاہر یہودی بستیوں کی حفاظت کا عنوان اختیار کر رکھا ہے لیکن درپردہ اس گروپ کا مقصد فلسطینیوں پر تشدد کرنا، ان کی املاک پر قبضے کرنا اور ان کی فصلوں اور درختوں کو نذر آتش کرنا ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس دہشت گرد گروپ میں آگے مزید یونٹ ہیں جن میں سے ہر یونٹ کے ذمہ داریاں الگ ہیں۔ ایک یونٹ درختوں کو آگ لگانے کے لیے مخصوص ہیں تو دوسرے کے ذمے فلسطینی گاڑیوں پر پتھراؤ کرنا ہے۔ اسی طرح فلسطینیوں کے قتل، املاک پر قبضے کے لیے علیحدہ یونٹ تشکیل دیے گئے ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی فائل کے انچارج ڈگلس نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے فلسطینی کسانوں پر حملے تیز کردیے ہیں بالخصوص اسرائیلی کی حزب اختلاف کی پارٹی کادیما کے اور حزب اقتدار کی پارٹی لیکود کے مل جانے کے بعد ان حملوں میں تیزی آگئی ہے۔ لیکود اور کادیما کے اس اتحاد کے بعد اسرائیلی پارلیمان کے فلسطین مخالف فیصلے، یہودی بستیوں کی توسیع اور غیر قانونی یہودی بستیوں کو قبول کرنے جیسے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حالیہ حملوں سے واضح ہوگیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور آباد کار نے باریاں لگا کر فلسطینیوں پر حملے کیے جن میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔ فلسطینی کسانوں کی فصلیں جلا دی گئیں۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کرنے والے آباد کاروں کی حمایت جاری رکھی۔ ڈگلس کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف فلسطینیوں پر حملوں میں تیزی تک محدود نہیں ہے بلکہ نہتے فلسطینیوں پر فائرنگ اور انہیں قتل تک کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ کچھ روز قبل عوریف اور عصیرہ میں ایسا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بالخصوص جب اسرائیلی حکومت نے تین غیر قانونی یہودی بستیوں کو ختم کرنے کے احکامات دے دیے ہیں حالیہ قتل عام یہودی آباد کاروں کی جانب سے اپنی حکومت کو ایک پیغام ہے۔ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے امور کے انچارج نے بتایا کہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور اس وقت مشرقی القدس اور مغربی کنارے میں پانچ لاکھ یہودی رہائش پذیر ہیں۔ یہ سب فلسطین پر مکمل قبضہ کرنے کے پروگرام کا حصہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آباد کاروں کی جارحانہ کارروائیوں پر صہیونی حکومت ان کا بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے نہتے شہریوں پر حملوں کی 92 فیصد شکایات اسرائیلی حکومت کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ غسان ڈگلس نے بتایا کہ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت خود آباد کار حکومت ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم یہودی آباد کار ہیں، وزیر خارجہ یہودی بستیوں کی رہائشی ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی پارلیمان کے بارہ کارکن اور تین وزراء بھی مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کے مکین ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فلسطینی دیہاتوں اور قصبوں کی حفاظت کے لیے فلسطینیوں کی حفاظتی کمیٹیاں کام کرتی رہیں گی اور ان کمیٹیوں کو مزید توسیع دی جائے گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

