فلسطینی مجلس قانون ساز میں حماس کے پارلیمانی بلاک ’’تبدیلی و اصلاح بلاک کے اراکین نے رام اللہ کی اعلی عدالت سے اپیل کی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے
سیاسی بنیادوں پر ملازمتوں سے فارغ کیے گئے افراد کو بحال کیا جائے اور ان کی تنخواہیں جاری کی جائیں۔ تبدیلی و اصلاح بلاک کی رکن پارلیمان سمیرہ حلایقہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ سیاسی اسیران کے حوالے جاری سیکڑوں عدالتی عدالتی احکامات پر فی الفور عمل کروایا جائے۔ بالخصوص ملازمتوں سے نکالے گئے افراد اور رام اللہ اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مہینوں بغیر ٹرائل حراست میں رکھنے کی کارروائیاں ختم کی جائیں۔
منگل کے روز سمیرہ حلایقہ نے ’’پی آئی سی‘‘ کے ساتھ اپنی خصوصی گفتگو میں کہا کہ عدالت اپنے فیصلے میں بلاوجہ ملازمتوں سے فارغ کیے گئے افراد کی نوکریاں بحال کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ لیکن اس فیصلے سے اتھارٹی کے انتقام کا نشانہ بننے والے سرکاری ملازمین کو کوئی فائدہ پہنچا نہ نقصان۔ اگر ان کو فوری نوکریوں پر بحال نہ کیا گیا تو ان کے گھروں کو چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے۔ سمیرہ حلایقہ نے کہا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد میں تاخیر سے فلسطینی ملازمتوں سے محروم اساتذہ کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بہت سے اساتذہ کو وزارت تعلیم و تربیت کی جانب سے سرکاری لیٹر موصول ہوئے ہیں جن میں ان کی واپسی کی ضرورت کا اقرار کیا گیا ہے تاہم اب تک ان اساتذہ کرام کی اپنے عہدوں پر بحالی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی انتظامیہ کا عدالتوں کے احکامات پر عمل نہ کرتے ہوئے ملازمین کی تنخواہیں بحال نہ کرنا انتہائی خطرناک ہے۔ فلسطینی اراکین پارلیمان احمد عطون اور منی منصور نے بھی فلسطینی اتھارٹی کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ملازمتوں سے نکالے گئے افراد سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
