اسرائیلی پولیس کے انسپکٹر جنرل یوحنان دانینو نے فلسطینی نوجوان محمد السلایمہ کو گولی مار کر شہید کرنے والی خاتون اہلکار کو میڈل سے نواز کر روایتی نسل پرستی کا ثبوت دیا ہے۔ اقدام کو فلسطینی حلقے نسل پرستی کا مظہر اقدام قرار دے رہے ہیں کہ جس میں پیغام دیا گیا ہے کہ عربوں کا خون صہیونیوں کے مقابلے میں نہایت ارزاں ہے۔
یاد رہے گزشتہ برس دسمبر کے وسط میں اسرائیلی فوج کی ایک خاتون اہلکار نے ڈیوٹی کے دوران 17 سالہ نوجوان السلایمہ کو اس وقت گولی مار کر شہید کر دیا جب اسے خاتون اہلکار نے چوکی کے پاس رکنے کا کہا لیکن السلایمہ اونچا سننے کی وجہ سے اہلکار کی ہدایت پر عمل نہ کر سکا۔ اسی دوران شقی القلب اسرائیلی خاتون فوجی نے فائرنگ کر کے السلایمہ کو موت کی نیند سلا دیا۔
یاد رہے کہ جس دن السلایمہ کو گولی ماری گئی، اسی روز گھر میں اس کی سالگرہ کی تیاریاں جاری تھیں جو کہ اس کی لاش گھر آتے ہی آخری رسومات کی تقریب بن گئی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
