(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کے قبلہ اوّل میں داخلے کے دوران شناختی کارڈ ضبط کیے جانے کے مکروہ حربے کے باوجود فلسطینی شہریوں کی قبلہ اوّل میں نمازوں کے لیے آنے والوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔
مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس اور خفیہ اداروں نے مل کرحال ہی میں ایک نئی چال چلی تھی جس کے تحت قبلہ اوّل میں نماز کے لیے آنے والے فلسطینیوں کے شناختی کارڈ ضبط کرنا شروع کیے تھے تھے۔ اس سازش کا مقصد فلسطینی نمازیوں کی قبلہ اوّل میں نماز کے لیے آنے والوں کی تعداد کم کرنا تھا مگر صہیونی حکام کی یہ چال بھی بری طرح ناکام ہوگئی ہے کیونکہ شناختی کارڈ ضبط ہونے کے باوجود بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد اقصیٰ پہنچ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کی جگہ مذعومہ ہیکل سلیمانی کی پرچارک انتہا پسند یہودی تنظیموں کی اپیلوں پر بڑی تعداد میں یہودی آباد کار بھی قبلہ اوّل میں دھاوے بول رہے ہیں۔ یہودیوں کی غیرمعمولی آمد ورفت ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب اسرائیل میں یہودی آباد کار ’’عید المساخر‘‘ کے نام سے ایک نیا مذہبی تہوار منا رہے ہیں۔
جمعرات کے روز یہودی آباد کاروں کے کئی گروپ مسجد اقصٰی کے داخلی دروازے سے قبلہ اوّل میں داخل ہوئے جنہیں صہیونی فوج اور پولیس کی جانب سے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی۔
یہودی آباد کاروں کی قبلہ اوّل پریلغار کو دیکھتے ہوئے فلسطینی شہریوں کی وہاں آنے والوں کی تعداد میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی فوج ایک طرف فلسطینی شہریوں کے شناختی کارڈ ضبط کرکے انہیں مسجد اقصیٰ سے دور رکھنے کی مذموم کوششیں کررہی ہے تو دوسری جانب یہودی شرپسندوں کو قبلہ اوّل پر یلغار کے لیے ہرطرح کی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔
