مقامی ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے دن دیہاڑے عدالت کی عمارت پر فائرنگ کی۔ اس وقت عدالت میں مختلف کیسز کی سماعت جاری تھی۔ عدالت کے اندر ایک فتحاوی رہ نما عدنان الھندی کو بھی پیش کیا گیا تھا اور ان کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی عدالت میں جمع تھی۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا فائرنگ کس نے کی ہے۔
ذرائع کاکہنا ہے کہ عدالت پر فائرنگ فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بلا جواز گرفتاریوں پر ردعمل ہوسکتا ہے۔ پچھلے چند روز سے جنین پناہ گزین کیمپ اور عباس ملیشیا کے درمیان مسلسل کشیدگی دیکھی جاتی رہی ہے۔
خیال رہے کہ جنین میں قائم مجسٹریٹ عدالت سیکیورٹی مراکز سے محض چند میٹر کے فاصلے پرواقع ہے۔ یہی وجہ ہے یہ جگہ ہائی سیکیورٹی زون سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک مسلح افراد کا پہنچنا اور فائرنگ کے بعد کامیابی سے فرار ہونا عباس ملیشیا کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
