• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطینی ماہی گیروں کی سمندر میں آگے تک جانے کی خوشی چھین لی گئی

جمعرات 23-05-2013
in فلسطین
0
plf 23 farr 300 0
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطینی ماہی گیر احمد بکر بڑی تیزی کے ساتھ غزہ کے ساحل پر کھڑی اپنی کشتی میں بیٹھ کر مچھلیوں کے شکار پر روانگی کی تیاری کررہا ہے۔ گزشتہ رات اسرائیل کی جانب سے شکار کے لیے سمندری حدود بڑھانے کے اعلان کے بعد وہ سمندر میں کسی بڑے شکار کے لیے کوشاں ہے۔

 

اسرائیل نے شکار کی مسافت تین میل سے بڑھا کر چھ میل کردی تھی جس کے بعد بکر اور اس کے ساتھیوں نے دوبارہ اس پیشے سے منسلک ہونے کا فیصلہ کیا تھا، اس سے قبل تین میل کی قلیل سمندری مسافت میں شکار نہ ملنے پر وہ اس پیشے کو خیر آباد کہ چکے تھے۔

تاہم مچھلیوں کے شکار کے لیے زیادہ بڑی سمندری حدود ملنے کی یہ خوشی اس وقت غائب ہوگئی جب اسرائیلی فوج نے فلسطینی ماہی گیروں کی کشتیوں پر پھر سے فائرنگ شروع کردی۔ بکر کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ جب اسرائیلی جنگی کشتیوں سے ان پر فائرنگ کی گئی تو ان کی تمام خوشیوں پر پانی پھر گیا اور انہیں مچھلیوں کے بغیر ہی فورا واپسی کی راہ لینا پڑی۔

اسرائیلی حکام نے گزشتہ سال غزہ پر آٹھ روزہ غارت گری میں 200 کے قریب فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد ہونے والے سیز فائر معاہدے میں غزہ کے ماہی گیروں کے لیے سمندری حدود تین سے بڑھا کر چھ میل کی تھی، تاہم اس سال اپریل میں یہ مسافت دوبارہ تین میل کرنے کا اعلان کردیا جو مصر کی ثالثی میں ہونے والے اس سیز فائر معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بکر ان سیکڑوں فلسطینی ماہی گیروں میں سے ایک ہے جن کو سمندر میں شکار کے لیے جانے کے بدلے میں پٹرول کا خرچ، اسرائیلی فائرنگ کے سوا کچھ نہیں ملتا، یوں اپنے اہل خانہ کی بھوک مٹانے جتنی مچھلیاں بھی گھر لے جانے کے قابل نہیں رہتے۔

سمندری حدود کم ہو یا زیادہ، فائرنگ لازمی

ماہی گیر بکر نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کے نمائندے کو بتایا کہ اسرائیل غزہ کی سمندری حدود میں کمی زیادتی کرتا رہتا ہے تاہم مچھلیوں کے شکار کی سمندری مسافت کچھ بھی ہو، فلسطینی فورسز کی جانب سے ماہی گیروں پر فائرنگ ایک لازمی بات ہے۔ کوئی بھی شکاری چاہے سمندری حدود کی پابندی کرتے ہوئے بھی شکار کے لیے نکلے، ہمہ وقت اسرائیلی بحریہ کی فائرنگ کا خوف اس کے سر پر منڈلا رہا ہوتا ہے۔

ایک اور ماہی گیر محمد الشرافی نے بتایا کہ ”اسرائیل ماہی گیروں اور سمندری حالات کا گہرا مطالعہ کرتا ہے اور کوئی بھی چیز مفت نہیں دیتا، اس نے اب چھ میل تک شکار کی اجازت دی ہے جب مچھلیوں کی آمد کا موسم ختم ہوگیا ہے۔ اپریل کے شروع میں ترکی کے راستے بڑی مچھلیاں غزہ کے ساحل کا رخ کرتی ہیں۔

اس موقع پر ماہی گیروں کی یونین صدر نزار عیاش نے کہا کہ اسرائیلی بحریہ کی جنگی کشتیوں سے فائرنگ کا مقصد فلسطینی ماہی گیروں کو بغیر کسی شکار کے واپس بھیجنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا بحری محاصرہ اور یہاں کے ماہی گیروں کی گرفتاریاں اور ان پر فائرنگ کا سلسلہ بھی فوری ختم ہونا چاہیے تاکہ ہم عزت کے ساتھ اپنے سمندر میں مچھلیوں کا شکار کر سکیں۔

عیاش نے ”مرکز اطلاعات فلسطین” کے نمائندے کے گفتگو کے دوران فلسطینی ماہی گیروں کے لیے عالمی امداد کا مطالبہ بھی کیا اور عالمی برادری سے فلسطینی ماہی گیری کے شعبے کے ساتھ تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ انہیں روز مرہ کے اسرائیلی حملوں سے تحفظ دیا جائے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے تین اطراف سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ پٹی کے مغربی ساحل پر اسرائیلی بحریہ نے سکیورٹی کمان بنا رکھی ہے۔ اسرائیلی جنگی کشتیاں شکار کے لیے نکلنے والی فلسطینیوں کی کشتیوں کی نگرانی کرتی رہتی ہیں، صہیونی بحریہ کی ان کشتیوں سے کسی بھی وقت ماہی گیروں پر فائرنگ کردی جاتی ہے، اب تک درجنوں فلسطینی ماہی گیر صہیونی فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوچکے ہیں۔

بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.