مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق دو فلسطینی تنظیموں کے بعد اسرائیل میں سرگرم دو تنظیموں "ڈاکٹر برائے دفاع حقوق انسان” اور "دفاع برائے فرد” [ھیموکیڈ] کی جانب سے اسرائیلی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جبری خوراک کا قانون طب کے پیشے کے اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا سپریم کورٹ اس قانون پر پابندی عاید کرائے۔
قبل ازیں مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کےعلاقوں سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے دو گروپوں نے جبری خوراک سے متعلق متنازعہ قانون کو صہیونی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس کے بعد اس قانون کو چیلنج کرنے والے گروپوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم "المیزان” اور "یوس الصدیق برائے امور اسیران” کی جانب سے دی گئی مشترکہ درخواست میں عدالت سے جبری خوراک کے قانون پرعمل درآمد روکنے اور قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے قیدیوں کو جبری خوراک دینے کا قانون عالمی قوانین انسانی حقوق کےاصولوں کی صریح خلاف ورزی اور اظہار رائے کی آزادی کے اصول کے بھی خلاف ہے۔ بھوک ہڑتالی قیدی اپنے حقوق اور جائز مطالبات کے لیے اگر بھوک ہڑتال کا سہارا لیتے ہیں تو آئین اور قانون انہیں یہ حق دیتا ہے۔ اس کے برخلاف دنیا کا کوئی قانون بھوک ہڑتالی اسیران کو جبری خوراک دینے کا ظالمانہ ہتھکنڈہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی سپریم کورٹ میں یہ درخواست ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دوسری جانب اسرائیلی فوج اور انتظامیہ 60 دن سے بھوک ہڑتال کرنے والے اسلامی جہاد کے رکن محمد علان کو جبری خوراک دینے پرغور کررہے ہیں۔
محمد علان اس وقت "برزیلائی” جیل اسپتال میں ہیں جہاں ان کی حالت نہایت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔ انہیں جبری خوراک دینے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں ان کی جان کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں کیونکہ ماضی میں اس مکروہ ہتھکنڈے کے استعمال کے نتیجے میں کئی فلسطینی قیدی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک متنازعہ قانون کی منظوری دیتے ہوئے جیلروں کو ان فلسطینیوں کو جبری خوراک دینے کا مجاز قراردیا تھا جو صہیونی مظالم کے خلاف جیلوں میں بھوک ہڑتال کرتے ہیں۔
