فلسطین کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مقیم سرکردہ فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیلی پولیس چیف "یوحنان دانینو” کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم بجمن نیتن یاھو سے کہا ہے کہ
وہ کسی ایسے پولیس افسر کا تقرر کریں جو علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرے اور امن وامان کی صورت حال کو خراب نہ ہونے دے۔
خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے سنہ 1948ء کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں چلے جانے والے فلسطینی شہروں میں جرائم پیشہ یہودی آباد کاروں نے فلسطینی آبادی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ہرطرف لوٹ مار اور نہتے فلسطینیوں پ ہ تشدد کا بازار گرم اور یہودی آباد کار بالخصوص انتہا پسند گروپ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی پولیس انہیں کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہودی آباد کاروں کے جرائم سے تنگ فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے گذشتہ روز تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں پرتشدد واقعات اور سماجی جرائم کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پولیس چیف یوحنان دانینو امن وامان کے قیام میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ وزیراعظم نیتن یاھو اسے فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر کسی دوسرے ذمہ دار افسر کا تقرر عمل میں لائیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
