خالد طفش نے مرکز اطلاعات فلسطین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا تکبر، مقبوضہ مغربی کنارے میں اس کے اقدامات اور فلسطینی علاقوں کو یہودی رنگ میں رنگنے کے منصوبے جلد ہی تیسرے انتفاضہ کا راستہ ہموار کر دیں گے۔
فلسطینی پارلیمنٹرین خالد طفش نے مزید کہا کہ بیکار امن مذاکرات سے فلسطینیوں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے اور تیسرے انتفاضہ کی راہ ہموار کرنے میں ان مذاکرات کی ناکامی کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔
فلسطینیوں کی معاشی صورتحال سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے خالد طفش نے کہا کہ خراب معیشت عوامی بغاوت کی راہ میں حائل نہیں ہو گی بلکہ یہ اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف عوامی بغاوت کو مزید بڑھاوا دے گی۔
فلسطینی قانون ساز ادارے کے رکن کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی اچھی یا بری معیشت انہیں اسرائیلی قبضے اور جارحانہ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت سے نہیں روک سکتی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
