فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم فلسطینی انتظامیہ کی ایک جیل میں زیرحراست فلسطینی سیاسی رہ نما اسلام العاروری نے تا دم رہائی بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔
اسلام عاروری پچھلے دو سال سے رام اللہ اتھارٹی کی جیل میں پابند سلاسل ہیں اوران پر نہ تو کوئی الزام عائد کیا گیا ہے اور نہ ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ فلسطینی عدالتی اسیر کی رہائی کی بار بار ہدایت جاری کی جاچکی ہیں لیکن فلسطینی سیکیورٹی ادارے العاروری کی رہائی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جس کے بعد اسیر کو مجبورا بھوک ہڑتال کا انتہائی قدم اٹھانا پڑا ہے۔
خیال رہے کہ اسلام العاروی ایک نوجوان سیاسی کارکن ہیں اور انہوں نےامریکا سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ سنہ 2010ء میں وطن واپس آئے تو رام اللہ میں تعینات صدر محمود عباس کی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا، اس کے بعد سے وہ مسلسل بغیر کسی جرم کے حراست میں ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیر العاروری کو عباس ملیشیا نے 07 اکتوبر2010ء کو حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں بیتونیا جیل میں طویل عرصے تک قید تنہائی میں رکھا گیا اور دوران حراست وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
حماس سے تعلق کے الزام میں پانچ ماہ تک انہیں ایک فوجی عقوبت خانے میں ڈالا گیا اور جہاں سے انہیں ایک دوسری جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔ العاروری نے اب رام اللہ کی ایک جیل میں تادم رہائی بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
