ایک فلسطینی باپ اور بیٹی نے یونیورسٹی سے ایک ہی دن میں یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرلی، فلسطینی ایمن اسعد الشوا اسرائیل کی جانب سے گرفتاری کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہ رکھ پائے تھے۔ صہیونی فورسز کی جانب سے گرفتاری کے وقت ان کی بیٹی کی عمر صرف ڈیڑھ سال تھی۔
فلسطینی سابق اسیر ان کی بیٹی نے غزہ کی یونیورسٹی کے اپلائیڈ سائنسز ڈیپارٹمنٹ سے ایک ساتھ تعلیم مکمل کی جس سے اسرائیلی جارحیتوں، مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف فلسطینیوں کی ثابت قدمی کے ساتھ ساتھ ان میں تعلیم سے بے پناہ لگاؤ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے الشوا کو 1993 میں گرفتار کیا تھا، اس وقت وہ شادی شدہ اور تین بچیوں کے باپ تھے۔ صہیونی عدالت نے انہیں پانچ مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ تاہم 2011ء کے اواخر میں حماس اور اسرائیل کے مابین تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہا ہوگئے تھے۔ اس معاہدے میں پانچ سال سے حماس کے زیر حراست اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے 1027 فلسطینی اسیران کو اسرائیلی عقوبت خانوں سے رہا کروایا گیا تھا۔
یونیورسٹی سے فاضل ہونے والی شوقیہ نے بتایا کہ ان کے والد بیس سال قید کے بعد رہا ہوئے ہیں، میری اور والدہ کی دعائیں ہیں کہ اب ہمارا خاندان کبھی الگ نہ ہو۔ اپنے شوقیہ نے کہا کہ اپنے والد کے ساتھ ہی یونیورسٹی کی ڈگری کے حصول اور ان کی رہائی کی وجہ سے ملنے والی خوشی نے دن رات کی اپنی محنت کی تکلیف بھلا دی ہے۔ انہوں نے القدس اور صہیونی عقوبت خانوں میں موجود دیگر فلسطینی اسیران کی رہائی کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
اپلائیڈ سائنسز ڈیپارٹمنٹ کے چودہویں بیج کی تکمیل پر منعقد اس تقریب میں فلسطینی مجلس قانون ساز کے فرسٹ ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر، رکن پارلیمان جمال الخضری اور ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر رفعت رستم بھی موجود تھیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
