فلسطینی رکن پارلیمنٹ اور ممتاز فلسطینی سیاست دان شیخ محمد ابو طیرکو صہیونی جیل سے رہا کر دیا گیا۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ‘‘حماس’’ سمیت فلسطین
کی سیاسی اور سماجی تنظیموں نے انہیں غاصب دشمن کی قید سے رہائی پانے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شیخ محمد ابو طیر کو بدھ کے روز اسرائیلی جیل عسقلان سے رہا کیا گیا۔ وہ گذشتہ ایک سال سے اسرائیلی جیلوں میں انتظامی قید میں تھے۔ شیخ ابو طیر کی رہائی کے بعد حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں انہیں دشمن کی قید سے نکلنے پر مبارک باد پیش کی۔ بیان میں کہا گیا کہ شیخ ابو طیر جیسے فلسطینی رہ نماؤں نے اپنی پوری زندگیاں صہیونی جیلوں میں وطن عزیز اور قبلہ اول کی آزادی کے لیے گذار دی ہیں۔ پوری فلسطینی قوم ان کے صبرو ثبات کو سلام پیش کرتی ہے۔ شیخ ابو طیر نے دشمن کی جیلوں میں اور جیل سے باہر ہرجگہ دشمن کے سامنے کلمہ حق کہنے کی اپنی دلیرانہ روایت قائم رکھی ہے۔ حماس شیخ ابو طیر کی ان کی قربانیوں اور صہیونی جیل سے رہائی ملنےپر مبارکباد پیش کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کا مقصد یہ تھا کہ وہ فلسطینی اراکین پارلیمنٹ کو حراست میں رکھ کر قانون ساز کونسل کا نظام معطل کرنا چاہتا تھا لیکن صہیونی دشمن کی یہ سازش بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ دشمن کو آٓخر کار اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے فلسطینیوں کو رہا کرنا پڑا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
