اسرائیلی سروسز نے بدھ کے روز پچیس سالہ فلسطینی خاتون اسیرہ اسماء البطران کو دس ماہ تک زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ اسماء البطران کو طولکرم شہر کے قریب ھشارون جیل سے رہا کیا گیا۔
اسماء البطران کو دس ماہ قبل اس وقت اسرائیلی فوجیوں نے گرفتار کیا جب وہ تاریخی شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی کے قریب سے گزر رہی تھیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل کی فوجی پراسیکیوشن نے اسماء البطران پر حماس کے طلبہ ونگ سے تعلق کی فرد جرم عاید کی تھی اور اسی بنا پر انہیں دس ماہ قید اور دو ہزار اسرائیلی شیکل جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ اپنی گرفتاری کے وقت وہ الخلیل یونیورسٹی کی شریعہ فکلیٹی میں زیر تعلیم تھیں اور ان کی ڈگری مکمل ہونے میں صرف ایک سمیسٹر باقی رہ گیا تھا۔
یہاں اس امر کی جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسماء البطران کو سن دو ہزار آٹھ میں بھی اٹھارہ ماہ کے لئے پابند سلاسل کیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی فوجی استغاثہ کے مطابق اسماء البطران نے حرم ابراہیمی کے سامنے اسرائیلی فوجی کو خنجر گھونپنے کی کوشش کی تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
