فلسطینی وزارت داخلہ نے مصری حکومت سے ایک بار پھرہمدرادنہ اپیل کی ہے کہ وہ رفح گذرگاہ کو کھولنے کے لیے موثر اقدامات کرے اور گذرگاہ سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کرے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آٹھ سال سے غزہ کی پٹی میں دو ملین افراد محصور ہیں اور شہر کی گذرگاہوں بالخصوص رفح گذرگاہ کی بندش سے شہریوں کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ اس لیے مصری حکومت رفح گذرگاہ کی بندش کا سلسلہ ختم کرتےہوئے راہ داری کو زیادہ سے زیادہ وقت کھلا رکھنے کی پالیسی اپنائے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال میں رفح گذرگاہ 100 دن مسلسل بند رہی جس کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 2009 ء کے بعد غزہ کے عوام کو رفح گذرگاہ کی بندش کی وجہ سے پہلی بار سخت نوعیت کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
