فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس شہروں میں انتہا پسند یہودیوں نے ٹولیوں کی شکل میں اشتعال انگیز گشت معمول بنا لیا ہے۔ بدھ کو علی الصباح یہودی آباد کاروں کے مختلف گروپوں نے مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینی علاقوں میں گشت کیا اور فلسطینی شہریوں کو جلا وطن کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہودیوں کے ایک گروپ نے مسجد اقصٰی کے جنوب میں سلوان کالونی میں مسجد اقصٰی کے مراکشی دروازے کے راستے میں فلسطینیوں کی پانچ گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی۔ انتہا پسند یہودی آباد کاروںنے سلوان کالونی میں دیواروں میں فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف اشتعال انگیز چاکنگ بھی کی۔ دیواروں پر”فلسطینیوں کو قیمت چکانا” پڑے گی جیسے دھمکی آمیز الفاظ تحریر کیے گئے۔ اسکے علاوہ فلسطینی شہریوں کو ان کی اراضی اور مکانات سے نکالنے کے دھمکی آمیزنعرے بھی لکھے گئے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کے بیت المقدس کی سلوان کالونی میں فلسطینیوں کی گاڑیوں پر اس نوعیت کا ایک ہفتے میں یہ تیسرا حملہ ہے۔ دو روز قبل بھی اس علاقے میں انتہا پسند یہودیوںنے راہ چلتے فلسطینیوںکی گاڑیوںپر سنگ باری کی تھی جس سے کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹنے سے متعدد افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔ رواں ہفتے سلوان ہی میں مسیحی برادری کے ایک تاریخی قبرستان پر یہودیوں نے حملہ کرکے اس کی بے حرمتی کی تھی اور پندرہ قبروں کا نام و نشان مٹا دیا تھا۔
ادھر مغربی کنارے کے شہر نابلس سے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نابلس میں یہودی غنڈہ گردوں نے مقامی فلسطینی شہری عبدالعظیم شحادہ کی گاڑیو پر پٹرول چھڑک کر اسے آگ لگا دی جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طورپر جل کر خاکستر ہوگئی۔ یہ واقعہ شہر کے جنوب میں بورین کالونی میں پیش آیا۔ واقعے کے بعد یہودی موقع سے فرار ہوگئے۔
مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے امور پر نظر رکھنے والے فلسطینی سماجی کارکن غسان دغلس نے بتایا کہ عبدالعظیم شحادہ کی گاڑی پر حملہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی انتہا پسند یہودی آباد کار شحادہ کے مکان اور دیگراملاک پرحملے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورین گاؤں میں گاڑیوں اور فلسطینیوں کی املاک پر یہ رواں سال کا 13 حملہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
