’’تبادلہ اسیران‘‘ معاہدے کی رو سے رہائی پاکر دوبارہ گرفتار کر لی جانے والی فلسطینی اسیرہ ھناء الشلبی کی اپنی انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال دسویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔
اسرائیلی عدالت نے ’’الشارون‘‘ جیل میں مقید اٹھائیس سالہ الشلبی کو انتظامی حراست میں منتقل کر رکھا ہے۔
فلسطینی حکومت کے وزیر برائے امور اسیران عطا اللہ ابوالسبح کا کہنا ہے کہ جنین سے تعلق رکھنے والی الشلبی ’’تبادلہ اسیران‘‘ میں رہائی پا کر دوبارہ گرفتار کی جانے والی پہلی فلسطینی ہیں. انہوں نے اپنی گرفتاری کے پہلے روز سے ہی بھوک ہڑتال کردی تھی۔ فلسطینی اسیرہ نے معروف فلسطینی اسیر رہنما شیخ خضر عدنان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھوک ہڑتال کا راستہ اپنایا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خاتون اسیرہ کی صحت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ اس موقع پر فلسطینی وزیر نے مصری خفیہ ادارے کے سربراہ مراد موافی سے’’تبادلہ اسیران‘‘ معاہدے کی رو سے رہا ہونے والے فلسطینی اسیران کی دوبارہ گرفتاریوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی۔
فلسطینی وزیر نے کہا کہ الشلبی کے ماں اور باپ دونوں کی عمر67 سال ہے اور ان دونوں نے بھی اپنے بیٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی میں بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
خیال رہے کہ الشلبی کو ’’وفاء اسیران‘‘ معاہدے کے نتیجےمیں رہائی سے قبل بھی اڑھائی سال تک انتظامی حراست میں رکھا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

