جنین کی فلسطینی اسیران سوسائٹی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی جیل مین قید جنین کے گائوں کفردان سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ نوجوان سالم قصاب کی صحت بہت تیزی سے خراب ہورہی ہے۔
پی پی ایس کے سیکریٹری راغب ابو دیاک نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسیر قصاب اسرائیلی جیلوں میں جاری طبی غفلت کی پالیسی کی وجہ سے اپنی ایک آنکھ کی بینائی کھو بیٹھا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 10 سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید قصاب اپنی حراست سے ہی بائیں آنکھ سے دیکھنے میں مسائل کا سامنا کررہے تھے۔
ابو دیاک نے بتایا کہ قصاب کو فوری طور سرجری کی ضرورت ہے مگر جیل کے ڈاکٹر ان کا علاج کرنے سے انکار کرتے آرہے ہیں۔
انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں خاص طور پر ہلال احمر سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض حکام پر دبائو ڈالیں تاکہ وہ کسی ماہر ڈاکٹر سے قصاب کا علاج کروائیں۔
غزہ کی فلسطینی حکومت نے بیمار اسیران کی جانوں کی پوری ذمہ داری قابض حکام کے سر ڈال دی ہے۔ اسیران اور سابق اسیران کی وزارت کے وزیر عطاء اللہ صباح نے وزارت کے دفتر میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں موجود اسیران جو کہ مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہیں، انہیں ایک منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیر غزہ نے عالمی ادارہ صحت اور ہلال احمر سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اسیران کی جان کو بچانے کے لئے فوری طور پر مداخلت کرے۔
اسرائیلی جیلوں میں قید اسیران میں سے 1200 اسیران مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہیں جن میں سے 25 اسیران کو کینسر ہے۔ اس کے علاوہ 150 اسیران کو فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہے۔
ابو صباح کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں موجود کلینکس میں ماہر ڈاکٹرز، ادویات اور طبی سامان کی کمی ہے جس کی وجہ سے اسیران کی بیماریاں پیچیدہ صورتحال اختیار کررہی ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور وقت کے ہوتے ہوئے فلسطینی اسیران کی زندگیاں بچانے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
