فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں سیاسی بنیادوں پر ملازمتوں سے فارغ کیے گئے اساتذہ اور دیگر شعبوں کے ملازمین کو فلسطینی سپریم کورٹ بھی انصاف دلانے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
عدالت کی جانب سے رام اللہ حکومت کے مظالم کے شکارملازمین کے ساتھ جانبدارانہ طرز عمل اختیار کرکے حقائق سے مسلسل چشم پوشی اختیار کرہی ہے جس کے نتیجے میں محروم طبقات مسلسل احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ دو سال قبل فلسطینی اتھارٹی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور دیگر جماعتوں سے تعلق کی پاداش میں سیکڑوں اساتذہ اور دیگر ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا تھا۔ نوکریوں سے محروم شہریوں نے انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر وہاں پر بھی ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ ہر دو ماہ بعد ایک نئی تاریخ جاری کرکے معاملے کو مزید التوا میں ڈال رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں محروم ملازمین میں غم وغصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
کل سوموار کے روز بھی نوکریوں سے نکالے گئے ملازمین کی درخواست کی مختصر سماعت کی گئی جس کے بعد کیس کی سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی گئی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے مسلسل ٹال مٹول کی پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت فلسطینی اتھارٹی کے ایماء پر چل رہی ہے۔ رام اللہ میں عدالت کے باہر دھرنا دیے بیٹھے ملازمین نے کہا کہ وہ اپنے جائز اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج جاری رکھیں گے۔ تنخواہوں اور ملازمتوں سے محروم کیے گئے سیکڑوں افراد نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینی اتھارٹی کے خلاف بھی شدید نعرے درج تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ دانستہ طور پر ان کے حقوق دلوانے میں پہلو تہی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ دو سال سے ان کامقدمہ عدالت میں ہے اور اس کے باوجود انہیں ان کے حقوق دلوانے کے لیے کوئی حکم جاری کرنے میں ناکام ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
