فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر اور میڈیا ترجمان ڈاکٹر محمد مصطفی کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے کل قرضے 04 ارب 20 کروڑ ڈالرز ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم رامی الحمد اللہ کی سربراہی میں قائم نئی فلسطینی حکومت کے پہلے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مالی بحران انتہائی شدید ہوگیا ہے۔
مصطفی نے کہا کہ خزانہ اس وقت انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔ مقامی قرضے ایک ارب اور بیس کروڑ ہو چکے ہیں، جن میں سے 60 کروڑ بنکوں کے اور 48 کروڑ ڈالرز پٹرول کی کمپنیوں کے دینے ہیں، ایک ارب ڈالرز کے بیرونی قرضے ہیں، انہوں نے کہا کہ بہت سے ادائیگیاں کرنا ابھی باقی ہیں، جن پر 10 کروڑ ڈالرز کے جرمانے عائد ہوچکے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر اور سپلائرز کو 26 کروڑ ڈالرز دینا باقی ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کی بہت سی ادائیگیوں کا ابھی حساب کرنا بھی باقی ہے۔ ڈاکٹر مصطفی نے بتایا کہ پنشن کے فنڈز کے لیے بھی ایک ارب ڈالرز درکار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت حکومت کو اخراجات کرنے اور ملازمین کو اگلے ماہ کی تنخواہیں دینے کے لیے بڑی مالی امداد کی ضرورت ہے جس کے لیے مخیر حضرات کو مائل کرنے اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ حد تک اخراجات کو معقول بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کویت نے حال ہی میں پانچ کروڑ ڈالرز کی امداد دی تھی جو مقامی بنک کو قرض کی واپسی میں خرچ کی جائی گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
