(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت ایک عدالت نے حراست میں لیے گئے سرکردہ فلسطینی دانشور پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار قاسم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ڈاکٹر قاسم کو پانچ روز قبل صدر عباس کے خلاف تنقید کی پاداش میں حراست میں لیا گیا تھا۔
پروفیسر قاسم کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے شوہر کے وکیل نے عدالت میں ایک درخواست دی تھی جس میں انہوں نے اپنے موکل کی ضمانت پر رہائی کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتےہوئے ڈاکٹر قاسم کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر قاسم پر فوجی داری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔قبل ازیں جمعرات کو فلسطینی اتھارٹی کی عدالت نے ڈاکٹرقاسم کو 15 دن کے لیے پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ پروفیسر عبدالستار قاسم کو عباس ملیشیا نے 2 فروری کو حراست میں لیاتھا۔ ان پر فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے قتل پرکسانے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور صدر کے خلاف زبان درازی جیسے الزامات عائد کیے تھے۔
ڈاکٹر قاسم کا ایک ہفتہ قبل القدس ٹی وی کو دیا گیا ایک انٹرویو فلسطینی اتھارٹی کو سخت ناگوار گذرا جس میں انہوں نے فلسطینی قانون کی عمل داری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قانون کے تحت صدر مملکت کے منصب کی مدت چار سال مقرر ہے جب کہ صدر عباس پچھلے کئی سال سے قوم پر مسلط ہیں۔ انہوں نے صدر عباس کی اسرائیل نواز پالیسی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صہیونی فوج سے سیکیورٹی تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
