فلسطینی صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز کی نگرانی میں قائم کی گئی جیلوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کی عالمی سطح پر مذمت جاری ہے۔
یورپ سمیت کئی دوسرے ملکوں کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے فلسطینی عدالتوں میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہونے والے غیرانسانی رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق برطانیہ میں سرگرم انسانی حقوق کی عرب تنظیم نے اپنے ایک بیان میں رام اللہ اتھارٹی کی جیلوں میں زیرحراست کارکنوں پر المناک سلوک کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ عباس ملیشیا کے تفتیش کار سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے نہتے شہریوں کےخلاف انسانیت سوز طرزعمل کی مرتکب ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نابلس میں عباس ملیشیا نے زیر زمین بنکروں میں ایک جیل بنا رکھی ہے جہاں قیدیوں کے ساتھ نہایت سفاکانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ قیدیوں پر عباس ملیشیا کے اہلکار غیرقانونی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے حال ہی میں عباس ملیشیا کی جیلوں سے رہائی پانے والے نھاد شحادہ نامی شہری کا اقبالی بیان بھی شامل کیا ہے۔ نہاد کا کہنا ہے کہ عباس ملیشیا کی اس زیر زمین جیل میں پوچھ گچھ کے دوران نہ صرف غیر مناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے بلکہ اسیران کو چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نابلس کی بنکرنما جیل میں زیرحراست درجنوں شہریوں کی حالت نازک ہے، ان میں سے بیشتر مختلف جان لیوا امراض کا شکار اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔ فلسطینی تفتیش کار ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نھاد شحادہ نے بتایا کہ نابلس کی یہ خفیہ جیل اور اس طرح کی کئی جیلیں سنہ 2005ء میں بنائی گئی تھیں، جہاں فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے مطلوب افراد کو رکھا جاتا ہے۔ ملزمان میں سے بیشتر بغیر کسی قسم کا مقدمہ چلائے حراست میں رکھے گئے ہیں۔
