مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کے شعبہ پلاننگ کے انچارج نمرود شیفر نے عبرانی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ صہیونی فوج اور فلسطینی سیکیورٹی اداروں کے درمیان گہرے مراسم قائم ہیں اور دو طرفہ تعاون کا سلسلہ پہلے سے زیادہ گہرا اور حقیقی شکل اختیار کرچکا ہے۔
اسرائیلی فوجی عہدیدار کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن وامان کے حوالے سے فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کا کلیدی کردار ہے جو لمحہ بہ لمحہ اسرائیلی فوج کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو دو طرفہ سیکیورٹی تعاون ان مذاکرات کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔ کیونکہ فلسطینی سیکیورٹی ادارے اور اسرائیلی فوج اب "سیکیورٹی پارٹنر” بن چکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں نمرود شیفر کا کہنا تھا کہ فلسطینی ملیشیا کی طرف سے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون فلسطینی اتھارٹی کی اجازت سے جاری ہے۔ اگر اسرائیلی حکومت اور رام اللہ کے درمیان بات چیت شروع ہوتی ہے تو سیکیورٹی تعاون بات چیت کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بھی فلسطینی ملیشیا کے ساتھ ہرممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔ دونوں طرف کےسیکیورٹی ادارے مل کرمغربی کنارے میں امن وامان کےقیام میں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں۔
واضح رہےکہ فلسطینی اتھارٹی کے نام نہاد سیکیورٹی اداروں کے اسرائیلی فوج کے ساتھ اعلانیہ تعاون کو فلسطینی سیاسی حلقے سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے فلسطینی قوم کے خلاف دشمن کے ساتھ تعاون قراردیتے ہوئے باربار رام اللہ اتھارٹی سے دشمن کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
