(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی اتھارٹی کےزیرانتظام پولیس نے فلسطینی اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات کے دفتر میں کام کرنے والے ایک سینیر عہدیدار کو اسرائیل کے لیے مبینہ طورپر جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کےایک ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ صائب عریقات کے دفتر میں کام کرنے والے ایک عہدیدار کو اسرائیل کے لیے مخبری کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے تاہم اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صائب عریقات کے دفتر سے جس عہدیدار کو حراست میں لیا گیا ہے وہ پچھلے 20 سال سے رام اللہ اتھارٹی کا سرکاری ملازم ہے اور اس نے اس عرصے میں اسرائیل کو فلسطینی اتھارٹی کے اہم راز دشمن کو فراہم کیے ہیں۔
خیال رہے کہ یاسرعرفات صدر محمود عباس کے قریبی اور قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ فلسطین۔ اسرائیل مذاکرات کے کئی ادوار میں فلسطینی اتھارٹی کے سینیر مذاکرات کار رہے ہیں۔ ان کے دفتر کے کسی عہدیدار کا اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں پکڑا جانا باعث تشویش ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی دشمن نے فلسطینی اتھارٹی کےاندر بھی اپنے ایجنٹ بٹھا رکھے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسرائیل کے مبینہ جاسوس کو دو ہفتے قبل حراست میں لیا۔ دوران تفتیش اس نے اقبال جرم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل۔ فلسطین مذاکرات کے عرصے میں صہیونیوں کو خفیہ معلومات فراہم کرتا رہاہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی انٹیلی جنس ادارے طوی عرصے سے مذکورہ عہدیدارکی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کررہے تھے۔ ذراع کا کہنا ہے کہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو فلسطینی قانون کے مطابق سخت ترین سزا ہوسکتی ہے۔
