فلسطینی کی تمام سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمت پر اتفاق کے باوجود مغربی کنارے میں حکومت کرنے والی فتح کا حماس کے خلاف تعصب ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
حماس کی جانب سے غزہ میں فتحاوی رہنماؤں کو داخلے کی کھلی اجازت کے باوجود مغربی کنارے سے چار حماس حامی گرفتار کرلیے گئے۔ سیاسی اختلافات کی پاداش میں گرفتار کیے گئے اسیران میں سے ایک نے مفاہمت کے باوجود گرفتاریاں جاری رکھنے کےخلاف جیل میں بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
فتح کی نمائندہ فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی فورسز نے طولکرم میں اسرائیلی عقوبت خانوں سے رہائی پانے والے بتیس سالہ مھند عیادہ صلاح الدین کو حراست میں لے لیا، ان کے دو بھائی پہلے ہی اسرائیلی جارحیتوں میں شہادت پا چکے ہیں۔
الخلیل میں بھی عباس ملیشیا نے یطا کے علاقے سے سابق اسیرمنذر موسی کو دس سے زیادہ مرتبہ تفتیش کے لیے طلب کر کے حراست میں لے لیا۔ وہ اس سے قبل چھ سال سے زائد عرصہ صہیونی جیل میں کاٹ چکے ہیں، انہیں اسرائیلی حراست سے آزاد ہوئے ابھی پانچ ماہ ہی گزرے تھے۔
دوسری جانب اسرائیلی جیل سے رہا ہونے کے کچھ روز بعد ہی فلسطینی اتھارٹی کے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے انس ابو مرخیہ، چوبیس سالہ، نے اتھارٹی کی جیل میں بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ اس سے قبل تیس ماہ تک اسرائیلی جیلوں میں بغیر کسی فرد جرم کے محض انتظامی حراست میں گزار چکے ہیں۔
ادھر نابلس میں عباس ملیشیا نے نجاح یونیورسٹی کے ایک طالب علم اسامہ یامین کو چار روز حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

