گزشتہ ماہ کل جماعتی فلسطینی کانفرنس کے بعد فلسطینی مفاہمت کے بڑھتے امکانات فتح کے دوغلے طرز عمل سے معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ فتح کی نمائندہ فلسطینی اتھارٹی، قومی امنگوں کے برعکس سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے دیگر جماعتوں کے حامیوں کو رہا کرنے پر کسی صورت رضامند نہیں۔
’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کو خصوصی ذرائع سےمعلوم ہوا ہے کہ تحریک فتح کے زیر انتظام فلسطینی سکیورٹی فورسز نہ صرف عدالتی احکامات کو ماننے سے انکار کر کے قیدیوں کو رہا نہیں کر رہیں بلکہ متعدد بے گناہ اسیران کو عقوبت خانوں میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
محمود عباس کے زیر کمانڈ اتھارٹی فورسز نے عدالت کی جانب سے رہائی کے احکامات کے باوجود حماس اور دیگر سیاسی تنظیموں کے درجنوں کارکنوں کو زیر حراست رکھا ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے پہلے سےگرفتار افراد کو رہا نہ کرنا، مزید سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں جاری رکھنا اور پھر ان کو تشدد کا نشانہ بنانے کا مقصد مفاہمت کو ناکام بنانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کسی صورت اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون ختم کرنے کو تیار نہیں۔

