فلسطین کے حصے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی جارحیتوں کے ساتھ ساتھ خود فلسطینی حکومت بھی اپنے ہم وطنوں پر مظالم ڈھانے میں پیش پیش ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاریاں آئے روز کا معمول بن چکی ہیں۔
بدھ کے روز بھی عباس ملیشیا کے نام سے معروف اتھارٹی کی فورسز نے نابلس، جنین، بیت لحم اور الخلیل میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے حماس کے سات کارکنوں کو گرفتار کرلیا جبکہ بیت لحم میں ایک معروف رہنما شیخ مصطفی عروج کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں پوچھ گچھ کے لیے تفتیشی مرکز طلب کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نابلس میں فلسطینی اتھارٹی کی خفیہ ایجنسی نے عاصم مصطفی عصیدہ کو شہر کو تل ٹاؤن سے حراست میں لیا، وہ القسام بریگیڈ کے شہید رہنما نصرالدین عصیدہ کے بھائی ہیں اور انہیں اس سے قبل بھی متعدد بار گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاریخی شہر الخلیل کے الشیوخ ٹاؤن سے حماس کے تین کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ الخلیل سے اٹھائے گئے تین میں سے دو افراد صالح ابراھیم حساسنہ اور عیسی صبح حلایقہ اس سے قبل بھی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
شہر جنین میں بھی فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے ایک پینتیس سالہ نوجوان محمد رؤوف حمدان کو تفتیش کے لیے طلب کرکے حراست میں لے لیا۔
ادھر بیت لحم میں فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے سابق حماس کے رہنما اور سابق اسیر شیخ مصطفی عروج ابو عیسی کو کرکفہ کے علاقے سے اٹھایا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر کے سامان کی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی۔ اہلکاروں نے ان کا لیپ ٹاپ اور گاڑی بھی قبضے میں لے لی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
