دو ماہ قبل فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کےدرمیان نام نہاد امن مذاکرات کی بحالی کے ساتھ ہی شرپسند یہودیوں کی قبلہ اول کے خلاف سازشوں میں بھی غیرمعمولی تیزی دیکھی جار ہی ہے۔ ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کومذاکرات کی بھول بھلیوں میں الجھا کراسرائیل مسجد اقصٰی کی اراضی پرایک بڑے یہودی معبد کی تعمیرکی تیاری کر رہا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس اورمسجد اقصٰی کے خلاف صہیونی ریشہ دوانیوں پر نظر رکھنے والے فلسطینی سماجی کارکن راسم عبیدات نے بتایا ہے کہ جب سے امریکی سرپرستی میں رام اللہ ۔ تل ابیب مذاکرات شروع ہوئے ہیں بیت المقدس اور مسجد اقصٰی میں یہودیوں کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ ایک جانب صہیونی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے ہزاروں مکانات کی تعمیرات کے اعلانا کیے جا رہی ہے اور دوسری جانب مسجد اقٰصی کی اراضی پر ایک بڑے یہودی معبد کی تعمیر کی بھی منصوبہ کی جا رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی” قدس پریس” کو انٹرویو دیتےہوئے مسٹرعبیدات کا کہنا تھا کہ "ایسا نہیں کہ اسرائیل کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر راز داری میں کی گئی ہے بلکہ صہیونی حکومت ڈنکے کی چوٹ پر یہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے ٹینڈر جاری کر رہی ہے۔ صرف ہمیں ہی یہاں بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کی سرگرمیوں کا علم نہیں بلکہ فلسطینی اتھارٹی بھی ان تمام اقدامات سے بخوبی آگاہ ہے۔ شہر میں فلسطینی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے اب تو صہیونی حکومت نے بیت المقدس میں عرب اکثریتی کالونیوں میں بھی یہودیوں کے لیے مکانات بنانے شروع کردیے ہیں”۔
راسم عبیدات کا کہنا تھا کہ جب سے فلسطینی اتھارٹی صہیونی مذاکرات کاروں نے امن بات چیت کا عمل شروع کیا ہے، اسرائیلی حکومت نے مشرقی بیت المقدس میں کم سے کم 4000 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
مسجد اقصٰی میں یہودی معبد
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی سماجی کارکن راسم عبیدات نے کہا کہ اسرائیل کی یہودی آباد کاری کے خطرناک ترین منصوبوں میں مسجد اقصٰی میں یہودی معبد کی تعمیر کا اعلان ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ اسرائیل انتہا پسند یہودیوں کی مسجد اقصٰی میں داخلے کی سرپرستی کر رہا ہے۔کیونکہ گذشتہ دو ماہ کے دوران جو کچھ دیکھنے کو ملا ہے اس سے صاف اندازہوتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو قبلہ اول کے حوالے سے خطرات کی ذرا بھی پروا ہ نہیں جبکہ اسرائیلی پولیس اور فوج خود یہودی آباد کاروں کو مسجد اقصٰی میں داخل ہونے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔
فلسطینی نمازیوں کو طاقت کے ذریعے قبلہ اول میں داخلے سے روکا جا رہا ہے اور یہودی آباد کاروں کے لیے مسجد اقصٰی میں داخل ہونے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں قبلہ اول میںداخل ہوکر مقدس مقام کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ فلسطین میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں میں پیش پیش تنظیم”یچائی” نے حکومت کی منظوری کے بعد مسجد اقصٰی کے ایک حصے پر یہودی معبد کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ معبد مسجد اقصیٰ کے چھٹویں حصے پر بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں صہیونی گروپ نے تمام ضروری لوازمات مکمل کرلیے ہیں اورحکومت سے اس کا نوٹیفکیشن بھی حاصل کرلیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
