فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بیرون ملک سفر پر صہیونی حکومت کی جانب سے پابندیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے صہیونی حکام نے جعلی سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں30فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روک دیا تھا۔
الکرامہ گذرگاہ پر متعین صہیونی پولیس نے مبینہ طور پراعتراف کیا ہے کہ اس نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر گذشتہ ہفتے تیس فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روک دیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سفرکی اجازت دینے سے قبل صہیونی انٹیلی جنس حکام کی جانب سے کلیئر کرانا ضروری ہے اور اگر انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے کسی شخص کے سفری کاغذات کلیئر نہیں ہیں تو اسے نہ صرف بیرون ملک سفر سے روکا جائے گا بلکہ اسے حراست میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ گذشتہ ہفتے بیرون سفر سے روکے جانے والوں کوکئی گھٹنے پولیس کی حراست میں بھی رکھا گیا تھا۔
درایں اثناء فلسطینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق رواں سال الکرامہ گذرگاہ سے اردن اور دوسرے ملکوں کو سفر کرنے والوں کی تعداد 27 ہزار512 رجسٹرڈ کی گئی ہے جبکہ 30 ہزار 298 افراد باہر سے مغربی کنارے میں آئے ہیں۔ ان کے علاوہ ہزاروں فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روکا بھی گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
