15مئی سنہ1948ء کے بد قسمت واقعات تھے کہ جس کی وجہ سے فلسطین کی نصف سے زائد آبادی کو سامراجی طاقتوں کی مدد سے صیہونی جارح دہشت گردوں نے ان کے وطن سے بے دخل کر دیا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کر لیا۔اسی لئے یہ دنفلسطینیوں کی تاریخ میں ’’یوم نکبہ‘‘ یعنی مصیبت اور آفت کا دن قرار دیا گیا۔
سامراجی طاقتیں عرب خطے میں اپنے فوجی اڈے اور نو آبادیاتی نظام کو اسرائیل کے نام سے مسلط کرنے میں کامیاب ہو گئیں جس کے عرب عوام اور دنیا پر خطر ناک نتائج مرتب ہوئے۔اس دن سے اور آج تک فلسطینیوں کی نسل کشی،حقوق سے محرومی اور اس کے مقابلے میں صیہونی وحشی قابض انتظامیہ کے خلاف فلسطینیوں کی جنگ آزادی اور مزاحمت شدت سے جاری ہے۔
فلسطینی اپنے گھروں،شہروں،دیہاتوں اور کھیتوں میں واپس آنا چاہتے ہیں کہ جہاں سے انہیں سنہ1948ء میں بذریعہ طاقت بے دخل کیا گیا تھا۔
فلسطینی انتفاضہ اور مزاحمت کو پوری دنیا سے حمایت حاصل ہوئی جیسا کہ ہم اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کی عالمی تحریک روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کرتی جا رہی ہے۔
اس سال یوم نکبہ پر ایشیائی عوامی یکجہتی برائے فلسطین جو کہ ایشیائی عوام کی تنظیموں کا اتحاد ہے اور عرب اور بین الاقوامی سول سوسائٹی کی تنظیموں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس مناسبت سے عالمی سطح پر اپنے دارالحکومتوں ،شہروں اور قصبوں میں فلسطینی عوام سے یکجتی کیلئے پروگرام ترتیب دیں گے جو کہ درج ذیل معاملات کو پیش نظر رکھ کر کئے جائیں گے۔
۱۔فلسطینیوں کا حق واپسی
۲۔فلسطین پر صیہونی غاصبانہ قبضے کا خاتمہ
۳۔بیت المقدس ،فلسطین کا دارالحکومت قرار دینا
۴۔یہودی بستیوں،نسل پرست دیوار اور صیہونی ناکہ بندیوں سمیت نسل پرستی کی ہر شکل کا خاتمہ
۵۔تمام فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی
۶۔غزہ کے محاصرے کا خاتمہ
