مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق حنان عشراوی نے ان خیالات کا اظہار رام اللہ میں عالمی مالیاتی فنڈ "آئی ایم ایف” کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس نے گذشتہ روز کرسٹوف ڈوینوولڈ کی قیادت میں ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر عشراوی نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہروں میں یہودی توسیع پسندی پر گفتگو کی اور کہا کہ اسرائیل ایک منظم حکمت عملی کے تحت بیت المقدس اور مغربی کنارے پر اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ روم اور عالمی عدالت انصاف کی رو سے فلسطین کے متنازعہ علاقوں میں یہودی کالونیوں کی تعمیر وتوسیع اسرائیل کا نیا جنگی جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک سازش کے تحت بیت المقدس اور مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے ان کے درمیان یہودی کالونیوں کا نیٹ ورک قائم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودی کالونیوں کا قیام کسی غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ صہیونی ریاست کی منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینی علاقوں کو تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
فلسطینی خاتون رہ نما کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی یہودی کالونیوں کے قیام کا مقصد "عظیم تر اسرائیل” کے منصوبے کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے مہمان وفد سے بات کرتے ہوئے غزہ کی پٹی کے آٹھ سال سے جاری اسرائیلی محاصرے اور ناکہ بندی کےبارے میںبھی بریفنگ دی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
