مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے تجارت وترقی "اونکٹاڈ” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ کی پٹی اور مقبوضہ مغربی کنارے کو دیے جانے والے واجبات ادا کردے، شہریوں کی نقل وحرکت کی مکمل آزادی فراہم کرے اور سامان کی منتقلی کو آسان بنائے تو وہاں پر بے روزگاری اور غربت کو جلد ختم کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی اقتصادی حالت کی خرابی کی بڑی وجہ اسرائیل کی اس علاقے پر مسلسل پابندیاں اور جنگوں کا مسلط کیا جانا ہے۔ صہیونی ریاست نے دسمبر 2008ء ، نومبر2012ء اور حال ہی میں غزہ کی پٹی پر دو ماہ تک مسلسل حملے جاری رکھے جن کے نتیجے میں علاقے کا معاشی دیوالیہ نکل گیا۔ اس کی تمام ترذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطین میں سالانہ قومی پیداری صلاحیت میں بہتری کے بجائے کمی آ رہی ہے۔ گذشتہ برس فلسطین میں شرح نمو 1 اعشاریہ 5 فی صد تھی جبکہ گذشتہ سے پیوستہ برس یہ شرح 5 اعشاریہ 9 فی صد ریکارڈ کی گئی تھی۔
اسی طرح غزہ کی پٹی میں بے روگارہ میں ایک سال میں 36 فی صد اور مغربی کنارے میں 22 فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ غریب خاندانوں کو دونوں فلسطینی علاقوں میں 25 فی صد خوراک کی قلت کا سامنا رہا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں شرح نمو میں کمی کی بنیادی وجہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے 60 فی صد علاقے پر غیرقانونی قبضہ جما رکھا ہے۔ پیداواری زمینیں صہیونی فوجی چھاونیوں، یہودی کالونیوں اور دیوار فاصل کے نیچے دب کر رہ گئی ہے جس کے نتیجے میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
