مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور شمالی فلسطین کے اندرون شہروں میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اسرائیل کے خلاف جس نوعیت کی پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئی ہیں اس امر کی نشاندہی کررہی ہیں کہ فلسطینی عوام اسرائیل کے خلاف تیسری تحریک انتفاضہ شروع کرنے کے موڈ میں ہیں۔ فلسطینی شہریوں کی جانب سے یہودی آباد کاروں کو کچلنے کے لیے کچھ فدائی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں، ان کارروائیوں کو تیسری تحریک انتفاضہ کا نقطہ آغاز بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے طاقت کے بے پناہ استعمال اور پرتشدد ہتکھنڈوں کے باوجود فلسطینی شہریوں کی جانب سے سنگ باری کے واقعات میں بھی غیرمعمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطین میں آزادی کے لیے مسلح جدو جہد پر یقین رکھنے والی اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے علاوہ صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کے کارکنوں میں بھی صہیونی ریاست کے مظالم کےخلاف ایک ہی جیسا غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ اگرچہ صدر محمود عباس اور فلسطینی اتھارٹی کی صف اول کی قیادت کسی نئی تحریک انتفاضہ کے امکانات کو مسترد کرتے چلے آ رہے ہیں، تاہم حالات یہ بتا رہے ہیں کہ فلسطین کا محاذ ایک بار پھر گرم ہوچکا ہے اور پیش آئند ایام میں صہیونی ریاست کے خلاف فلسطینیوں کی تحریک مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
