(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ذرائع ابلاغ نےانکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین نے ان فلسطینی املاک کی مسماری پر اسرائیل سے ہرجانہ وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی تعمیر میں یورپی یونین کی جانب سے فلسطینیوں کی مالی معاونت کی گئی ہے۔
اسرائیلی وزرات خارجہ کے ڈائریکٹر برائے یورپی یونین امور’’افیفیٹ بارایلن‘‘ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین مغربی کنارے کے سیکٹر C میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی املاک کی مسماری پر صہیونی ریاست سے ہرجانے کا مطالبہ کرے گا۔ خاص طورپر ان املاک کے ہرجانے کا مطالبہ کیا جائے گا جن کی تعمیر میں یورپی یونین کی جانب سے مالی مدد کی گئی ہوگی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ فلسطین کے سیکٹر سی میں فلسطینیوں کی املاک مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کی مسماری کو عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی خیال کرتا ہے۔ یورپ جہاں اس علاقے میں اسرائیلی تعمیرات کی مخالفت کررہا ہے وہیں فلسطینیوں کی املاک کو گرانے کی شدید مذمت کرچکا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی عہدیدار نے وزارت خارجہ اور یورپی یونین کے سفیر کے درمیان مکانات مسماری کےموضوع پرہونے والی کسی بھی بات چیت کی تصدیق سے انکار کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر اسرائیل اور یورپی نمائندوں کےدرمیان آن کیمرہ اجلاس ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یورپی یونین کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات مسماری کے حوالے سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات مسترد کردیے ہیں اور کہا ہے کہ مکانات مسماری کو انسانی حقوق کے معاملے سے نہ جوڑا جائے۔
