ترکی کے ایک سابق سفیر احمد چلکول نے انکشاف کیا ہے کہ اکتیس مئی 2010 ء کو فلسطینی محصور شہرغزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والے عالمی بحری جہازوں کے قافلے پر
اسرائیلی فوج کے حملے میں ممکنہ طور پر سابق مصری صدر حسنی مبارک کی حکومت نے تل ابیب کی مدد کی تھی۔
وہ لکھتے ہیں کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ترک بحری جہاز کے بارے میں اہم معلومات اسرائیل کو مصری حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی ہوں گی۔ کیونکہ ترک بحری جہاز پر ایک مشکوک مصری سوار ہوا لیکن جہاز کے روانہ ہونےسے قبل ہی اتر گیا تھا۔
ترک سفارت کار کہنا ہے کہ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ترکی سے آنے والے امدادی جہاز میں اسلحہ بھی لادا گیا ہے۔ اس قسم کی گمراہ کن معلومات انہیں مصری حکومت کی جانب سے دی گئی ہوں گی۔ کیونکہ مصر کے سابق مرد آہن حسنی مبارک اور ترک حکومت کے درمیان تعلقات اچھے نہیں تھے۔ قاہرہ انقرہ سے انتقام لینے کے لیے اسرائیل سے جھوٹ بول سکتا تھا۔
مصنف نے مزید لکھا ہے کہ قاہرہ میں ترک سفارت خانے کو یہ اطلاع ملی تھی کہ مصری انٹیلی جنس کا ایک اہلکار ہوائی جہاز کے ذریعے انقرہ پہنچا ہے۔ جہاں اس نے غزہ کی پٹی کے لیے روانہ ہونے والے امدادی جہاز کا بھی خفیہ طور پر معائنہ کیا ہے۔اس سے یہ شک ہوتا ہے کہ نو ترک شہریوں کے بہیمانہ قتل اور پچاس سے زائد کو زخمی کرنے میں صہیونی فوج کا معاون رہا ہے۔
خیال رہے کہ 31 مئی 2010 کو انسانی حقوق کے عالمی کارکنوں کا ایک عظیم الشان بحری امدادی قافلہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کے لیے عالمی سمندری حدود میں عازم سفر تھا کہ اس دوران قابض فوج کی بحریہ نے ترکی کے امدادی جہاز مرمرہ پرحملہ کرکے نو ترک شہریوں کو شہید اور پچاس کو زخمی کر دیا تھا۔ قابض فوج نے امدادی سامان لوٹنے کےبعد قافلے میں شامل چھ سو انسانی حقوق کے رضاکاروں اورعالمی شخصیات کو یرغمال بنا لیا تھا۔
