فلسطینی صدرمحمود عباس کی جماعت "الفتح” کے سابق منحرف لیڈر محمد دحلان کے حامیوں نے الجزائر میں فلسطینی اتھارٹی کے سفارت خانے پر حملہ کیا اور توڑپھوڑ کی کوشش کی ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ الجزائر میں تعینات فلسطینی سفیر حسین عبدالخالق کو انکےعہدے سے طرف کیا جائے کیونکہ وہ سفارت خانے میں سے دحلان کے بعض حامی ملازمین کوان کی تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کوئی دو درجن ڈنڈہ بردار افراد نے الجزائر میں فلسطینی سفارت خانے پر دھاوا بولا اور دو اہلکاروں کو اغواء کر لیا گیا تاہم سیکیورٹی حکام نے مغویوں کو رہا کرا لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سفارت خانے میں گھسنے والے دحلان کے کئی حامی اب بھی سفارت خانے کے اندر موجود ہیں جن کے مطالبات کے بارے میں ان سے مذاکرات جاری ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق کچھ حملہ آور سفارت خانے کی چھت پر چڑھ گئے تھے جہاں انہوں نے محمد دحلان کے حق میں اور فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی سفیرحسین عبدالخالق کےحق میں شدید نعرے بازی کی۔
فلسطینی سیاسی جماعت عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے ایک عہدیدارنے بتایا کہ حملہ آور محمد دحلان کے حامی اور سفارت خانے کے سابق ملازم تھے انہیں باغی لیڈر دحلان کی حمایت کے الزام میں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

