اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ یہودیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے تو میرا حماس کے بارے میں دوسرا موقف ہو گا۔ میں یہودی آباد کاروں کے اغواء کی شدید مذمت کرتا ہوں کیا یہ مصالحت ہے ہم غزہ کی پٹی میں سیکیورٹی تعاون کی بات کرتے ہیں اور وہ [حماس] مغربی کنارے میں ہمارا تختہ الٹ رہی ہے۔
غزہ کی پٹی کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے پر صدر عباس نے کہا کہ ہم 43 ہزار اضافی ملازمین کو تنخواہیں نہیں دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رامی الحمد للہ کی زیر نگرانی قائم قومی حکومت کو امریکا اور یورپی ملکوں سے محدود امداد مل رہی ہے۔ امریکا اور یورپ نے امداد کو مشروط کر دیا ہے کہ ان کے فنڈز غزہ کی پٹی میں "دہشت گردوں” کے ہاتھ نہیں لگنے چاہئیں۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس، یاسر عبد ربہ، ابو لیلیٰ، حنا عمیرہ، محمود اسماعیل، زیاد ابو عمر، حنان عشراوی، عبدالرحیم ملوح، حسین الشیخ، واصل ابو یوسف، احمد قریع، احمد مجدلانی، جمیل شحادہ، مصطفیٰ البرغوثی، صائب عریقات، غسان الشعکہ، عزام الاحمد، وزیراعظم ڈاکٹر رامی الحمد اللہ اور دیگر شریک تھے۔
اجلاس میں اسرائیلی جیلوں میں زیر حراست فلسطینی اسیران کی بھوک ہڑتال، تین یہودی آباد کاروں کا اغواء اور فلسطینی جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور پیش آئند اقدامات اہم موضوعات تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اپنے جائز حقوق کے لیے جنگ لڑ ہے ہیں۔ ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں تاہم انہوں نے ہم سے مشاورت کے بغیر ہی بھوک ہڑتال شروع کردی تھی۔ اس کے باوجود ہم نے ان کے حقوق کےحصول کے لیے عرب ممالک اور عالمی برادری سے رابطے کیے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کو بھی واضح الفاظ میں یہ پیغام پہنچایا گیا کہ بھوک ہڑتالی اسیران کی زندگیوں کو نقصان پہنچا تو تل ابیب اس کا ذمہ دار ہوگا۔
تین یہودی آباد کاروں کی گم شدگی کے بارے میں ابو مازن کا کہنا تھا کہ واقعے کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی اتھارٹی کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا۔ پہلے لا پتہ یہودیوں کی تعداد دو بتائی گئی ۔بعد ازاں تین کے بارے میں خبریں آنا شروع ہوگئی تھیں۔ اسرائیلی فوج نے نذر آتش کی گئی ایک کار بھی قبضے میں لی گئی ہے، اغواء سے قبل مبینہ طور پر اسی گاڑی میں یہودیوں کو اغواء کیا گیا جسے بعد ازاں نذرآتش کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہودیوں کو حماس نے اغواء کرایا ہے تو حماس کے بارے میں میرا موجودہ موقف نہیں رہے گا۔ میں استفسار کرتا ہوں کہ کیا پھر بھی فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت قائم رہ سکے گی۔ ہم تعاون کی کوشش کرتے ہیں اور حماس بگاڑ پیدا کرنا چاہتی ہے۔
