سن دو ہزار چھ کے عام انتخابات کے وقت سے تقسیم فلسطینی جماعتوں فتح اور حماس کے مابین مفاہمت کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں۔
مصری حکومت کی نگرانی میں گزشتہ سال قاھرہ میں مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے باوجود فتح معاہدے کی شقوں پر عمل سے مسلسل انکاری ہے۔
مغربی کنارے میں فتح کے زیر کمانڈ فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے حماس کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اس کے مزید تین کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ حماس کے ساتھ مفاہمتی معاہدے میں سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں کے خاتمے پر اتفاق کے باوجود محمود عباس کی فورسز کی اسرائیلی نوازی جاری ہے اور عباس ملیشیا اسرائیلی فوج کے ساتھ سکیورٹی تعاون جاری رکھتے ہوئے حماس کارکنوں کو گرفتار کرتی جارہی ہے۔
جمعرات کے روز عباس ملیشیا کے نام سے معروف فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے الخلیل اور سلفیت سے تین حماس کارکنوں کو گرفتار کیا، سلفیت سے وصفی سلیمان، جو متعدد جسمانی امراض میں مبتلا ایک عمر رسیدہ شخص ہیں، کو گرفتار کر لیا گیا۔ الخلیل میں اسرائیلی عقوبت خانوں کی جیلوں میں قید کا وسیع تجربہ رکھنے والے امجد رجبی کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کرکے اغوا کر لیا گیا۔ ادھر الخلیل میں بھی عباس ملیشیا کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے سابق اسیر ثائر فاخوری کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تاہم فاخوری کی عدم موجودگی کے باعث اتھارٹی کے سکیورٹی اہلکاروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
