مسجد اقصیٰ کے خطیب اور فلسطین کے ممتاز عالم دین علامہ الشیخ محمد سلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ عالم اسلام قبلہ اول میں غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع قرار دینے کے لیے متفقہ فتویٰ جاری کرے۔
کز اطلاعات فلسطین کےالشیخ محمد سلیم نے مسجد اقصٰی میں نماز جمعہ سے قبل تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہودیوں کی قبلہ اول کے خلاف ریشہ دوانیوں کی روک تھا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسلم امہ کے نمائندہ علماء یہودیوں کے قبلہ اول میں داخلے پر پابندی کا متفقہ فتویٰ جاری کریں۔ یہودیوں اور دیگر تمام غیرمسلموں کے مسجد اقصیٰ میں دخلے کو مسلمانوں کی اجازت سے مشروط قرار دیا جائے۔ تاکہ کوئی بھی غیرمسلم مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مقدس مقام کی بے حرمتی نہ کر سکے۔الشیخ سلیم کا کہنا تھا کہ قبلہ اول اس وقت صہیونی ریاست کی منظم سازشوں کا سامنا کر رہا ہے۔ جتنے خطرات اس وقت مسلمانوں کے اس مقدس مقام کو لاحق ہیں ماضی میں کبھی نہیں تھے۔ اس ضمن میں ہمارے سامنے اسلاف کے فتاویٰ بھی موجود ہیں۔ امام احمد بن حنبل کی رائے بھی وزن رکھتی ہے اور مالکی مسلک کے علماء بھی کسی غیرمسلم کو مسلمانوں کےکسی مقدس مقام میں داخلے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے خطیب نے قبلہ اول پر اردنی سرپرستی ختم کر کے اسے صہیونی تسلط میں دینے کی سازشوں کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ یہودی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قبلہ اول کو مسلمانوں سے سلب کرنا چاہتے ہیں۔ اس مذموم مقصد کی تکمیل کے لیے آئے روز مختلف نوعیت کے بہانے تراشے جاتے ہیں تاکہ مسلمان مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس سے دور ہو جائیں اور اس مقدس مقام پر صرف صہیونی قابض رہیں۔
